❮
❯
حدیث نمبر: 4192
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ ، حَدَّثَنَا بَشِيرُ بْنُ مَيْمُونٍ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَذْكُرُ أَهْلَ مَقْبَرَةٍ يَوْمًا ، فَصَلَّى عَلَيْهَا ، فَأَكْثَرَ الصَّلَاةَ عَلَيْهَا ، فَسُئِلَ عَنْهَا فَقَالَ : أَهْلُ مَقْبَرَةِ عَسْقَلَانَ ، يُزَفُّونَ إِلَى الْجَنَّةِ كَمَا تُزَفُّ الْعَرُوسُ إِلَى زَوْجِهَا .
ترجمہ

سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو ایک دن ایک قبرستان والوں کا تذکرہ کرتے ہوئے سنا، آپ ﷺ نے ان کے حق میں دعا فرمائی اور کثرت سے ان کے لیے دعائے مغفرت کی، پھر جب آپ ﷺ سے ان کے متعلق دریافت کیا گیا تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”یہ عسقلان کے قبرستان کے مکین ہیں، انہیں جنت کی طرف اس طرح (بڑے اعزاز و اکرام کے ساتھ) لے جایا جائے گا جس طرح دلہن کو اس کے شوہر کی طرف رخصت کیا جاتا ہے“۔
یہ روایت موضوع (من گھڑت) ہے، اس کی سند میں بشیر بن میمون نامی راوی کذاب اور متروک الحدیث ہے (تخریج: المعجم الکبیر للطبرانی: 12/10، موضوعات ابن الجوزی: 2/52)۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / فضل البلدان / حدیث: 4192
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف جدًا
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف جدًا. »
«أخرجه مجمع الزوائد ومنبع الفوائد برقم: 16665، 16666، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 7052»