المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
فضل البلدان— شہروں اور علاقوں کی فضیلت کا بیان۔
بَابُ عسقلان باب: عسقلان کا بیان۔
قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ ، حَدَّثَنَا عَطَّافُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنِي أَخِي الْمِسْوَرُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُحَيْنَةَ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : بَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا بَيْنَ ظَهْرَيْ أَصْحَابِهِ إِذْ قَالَ : صَلَّى اللهُ عَلَى تِلْكَ الْمَقْبَرَةِ - ثَلَاثَ مَرَّاتٍ - فَلَمْ يَسْأَلْهُ أَحَدٌ : أَيُّ مَقْبَرَةٍ هِيَ ؟ وَلَمْ يُسَمِّ لَهُمْ شَيْئًا ، فَدَخَلَ بَعْضُ أَصْحَابِهِ عَلَى بَعْضِ أَزْوَاجِهِ ، كَأَنَّهَا عَائِشَةُ ، فَقَالَ لَهَا : فَدَخَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَتْهُ عَنْهَا ، فَقَالَ : هِيَ مَقْبَرَةٌ بِعَسْقَلَانَ .سیدنا عبداللہ بن بحینہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنے صحابہ کے درمیان تشریف فرما تھے کہ اچانک آپ ﷺ نے تین مرتبہ یہ دعا فرمائی: «صَلَّى اللهُ عَلَى تِلْكَ الْمَقْبَرَةِ» ”اللہ تعالیٰ اس قبرستان پر اپنی رحمتیں نازل فرمائے۔“ اس وقت صحابہ کرام میں سے کسی نے آپ ﷺ سے یہ دریافت نہ کیا کہ وہ کون سا قبرستان ہے؟ اور نہ ہی آپ ﷺ نے خود ان کے سامنے اس کا نام واضح فرمایا۔ پھر آپ ﷺ کے صحابہ میں سے ایک صحابی نبی کریم ﷺ کی ایک زوجہ مطہرہ کے پاس حاضر ہوئے، جن کے متعلق راوی کا گمان ہے کہ وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا تھیں، (اور انہیں اس واقعے کی خبر دی)؛ چنانچہ جب رسول اللہ ﷺ ان کے پاس تشریف لائے تو انہوں نے آپ ﷺ سے اس قبرستان کے بارے میں سوال کیا، جس پر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”وہ عسقلان کا ایک قبرستان ہے۔“
اس حدیث کی تخریج امام ابو یعلیٰ نے اپنی مسند میں کی ہے۔