المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب المناقب— مناقب و فضائل کا بیان۔
بَابُ فَضْلِ العجم وفارس باب: عجم اور فارس کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 4190
وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - رِوَايَةً - قَالَ : لَوْ كَانَ الْإِيمَانُ مُعَلَّقًا بِالثُّرَيَّا لَنَالَهُ نَاسٌ مِنْ أَهْلِ فَارِسَ .
4190 \ 2 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ وَهَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بِهِ .
وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ وَصَرَّحَ بِرَفْعِهِ ، وَقَالَ فِيهِ : وَرُبَّمَا قَالَ : مِنْ بَنِي الْحَمْرَاءِ بَنِي الْمُوَالِي .
صَحِيحٌ .ترجمہ
سیدنا قیس بن سعد رضی اللہ عنہ سے (بطورِ حدیث) روایت ہے کہ انہوں نے کہا: ”اگر ایمان ثریا (ستاروں) کے ساتھ لٹکا ہوا ہوتا تو اہلِ فارس میں سے کچھ لوگ اسے یقیناً حاصل کر لیتے۔“
امام ابویعلیٰ نے اسے ابوبکر اور ہارون بن معروف کی سند سے سفیان سے روایت کیا ہے، جبکہ امام بزار نے اسے صراحت کے ساتھ نبی کریم ﷺ کے فرمان کے طور پر (مرفوعاً) نقل کیا ہے اور اس میں یہ بھی ذکر ہے کہ راوی نے غالباً ”بنو حمراء“ یعنی ”موالی“ (غیر عرب) کے الفاظ کہے ہیں۔ یہ حدیث صحیح ہے۔