المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب المناقب— مناقب و فضائل کا بیان۔
بَابُ فَضْلِ العجم وفارس باب: عجم اور فارس کی فضیلت کا بیان۔
قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنِ الْمِنْهَالِ ، عَنْ رَجُلٍ ، قَالَ : كُنْتُ فِي الْمَسْجِدِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَعَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ يَخْطُبُ عَلَى مِنْبَرٍ مِنَ الْآجُرِّ ، وَخَلْفِي صَعْصَعَةُ بْنُ صُوحَانَ ، فَكَلَّمَهُ رَجُلٌ بِشَيْءٍ خَفِيٍّ عَلَيْنَا ، فَعَرَفْنَا الْغَضَبَ فِي وَجْهِهِ ، فَسَكَتَ ، فَجَاءَ الْأَشْعَثُ بْنُ قَيْسٍ ، فَجَعَلَ يَتَخَطَّى رِقَابَ النَّاسِ حَتَّى كَانَ قَرِيبًا ، فَقَالَ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، غَلَبَتْنَا هَذِهِ الْحَمْرَاءُ عَلَى وَجْهِكَ ، فَضَرَبَ صَعْصَعَةُ بَيْنَ كَتِفَيَّ بِيَدِهِ ، فَقَالَ : إِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ ، لَيُبْدِيَنَّ الْيَوْمَ مِنْ أَمْرِ الْعَرَبِ أَمْرًا كَانَ يَكْتُمُهُ ، قَالَ : فَغَضِبَ غَضَبًا ، وَقَالَ : مَنْ يَعْذِرُنِي مِنْ هَؤُلَاءِ الضَّيَاطِرَةِ ، يَتَمَرَّغُ أَحَدُهُمْ عَلَى حَشَايَاهُ ، وَيَهْجُرُ أَقْوَامًا تَذْكُرُ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ ، فَيَأْمُرُنِي أَنْ أَطْرُدَهُمْ وَأَكُونَ مِنَ الظَّالِمِينَ ، وَالَّذِي فَلَقَ الْحَبَّةَ وَبَرَأَ النَّسَمَةَ لَقَدْ سَمِعْتُ مُحَمَّدًا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : وَاللهِ لَيَضْرِبُنَّكُمْ عَلَى الدِّينِ عَوْدًا كَمَا ضَرَبْتُمُوهُمْ عَلَيْهِ بَدْءًا .
قَالَ إِسْحَاقُ : وَسَمَّاهُ غَيْرُ جَرِيرٍ عَبَّادَ بْنَ عَبْدِ اللهِ الْأَسَدِيَّ .
قُلْتُ : وَهُوَ كَمَا قَالَ .
4189 \ 2 - وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْأَسَدِيِّ ، قَالَ : كَانَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَخْطُبُ وَقَدْ أَحْدَقَتْ بِهِ الْمَوَالِي ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِتَمَامِهِ .
4189 \ 3 - وَأَخْرَجَهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ عَنْ شَرِيكٍ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنِ الْمِنْهَالِ ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللهِ .
4189 \ 4 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ بِهِ .سیدنا عباد بن عبد اللہ الاسدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: میں جمعہ کے دن مسجد میں موجود تھا اور سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ اینٹوں کے بنے ایک منبر پر خطبہ دے رہے تھے۔ میرے پیچھے صعصعہ بن صوحان موجود تھے، اسی دوران ایک شخص نے آپ رضی اللہ عنہ سے سرگوشی میں کوئی ایسی بات کہی جو ہم پر مخفی رہی، تو ہم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے چہرہ مبارک پر غصے کے آثار دیکھے اور وہ خاموش ہو گئے۔ پھر اشعث بن قیس آئے اور لوگوں کی گردنیں پھلانگتے ہوئے آپ کے قریب پہنچے اور عرض کی: ”اے امیر المومنین! ان سرخ رنگت والے لوگوں (عجمیوں اور موالیوں) نے آپ کے سامنے ہم پر غلبہ پا لیا ہے (یعنی آپ کی قربت میں وہ ہم سے آگے نکل گئے ہیں)۔“ اس پر صعصعہ نے میرے کندھوں کے درمیان اپنا ہاتھ مارا اور کہا: «إِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ» ”بے شک ہم اللہ ہی کے لیے ہیں اور ہمیں اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے“، آج علی رضی اللہ عنہ عربوں کے معاملے میں وہ حقیقت ظاہر کر دیں گے جسے وہ اب تک (مصلحتاً) پوشیدہ رکھے ہوئے تھے۔ راوی کہتے ہیں کہ پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ شدید غصے میں آگئے اور فرمایا: ”کون ہے جو ان بھاری بھرکم اور آرام طلب لوگوں کے مقابلے میں میرا عذر قبول کرے گا؟ ان میں سے ہر ایک اپنے نرم و نفیس بستروں پر پڑا رہتا ہے اور ان لوگوں سے کنارہ کشی اختیار کرتا ہے جو اللہ عزوجل کا ذکر کرتے ہیں، پھر یہ مجھے حکم دیتا ہے کہ میں ان (مخلصین) کو اپنے پاس سے نکال دوں تاکہ میں ظالموں میں سے ہو جاؤں؟ ﴿فَتَطْرُدَهُمْ فَتَكُونَ مِنَ الظَّالِمِينَ﴾ [سورة الأنعام: 52]۔ قسم ہے اس ذات کی جس نے دانے کو چیرا اور جان دار کو پیدا کیا! میں نے محمد ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ”خدا کی قسم! (ایک وقت آئے گا کہ) یہ لوگ دین کی خاطر تم پر اس طرح ضرب لگائیں گے جیسے تم نے اسلام کے آغاز میں ان پر ضرب لگائی تھی۔““
اسحاق نے کہا: جریر کے علاوہ دیگر راویوں نے اس (سند میں موجود) شخص کا نام عباد بن عبد اللہ الاسدی بتایا ہے۔ میں کہتا ہوں: یہ ویسا ہی ہے جیسا انہوں نے کہا۔
حارث نے کہا کہ ہمیں ابو النضر نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا ہمیں ابو معاویہ نے اعمش سے، انہوں نے منہال بن عمرو سے اور انہوں نے عباد بن عبد اللہ الاسدی سے روایت کیا ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ خطبہ ارشاد فرما رہے تھے اور موالی (عجمیوں) نے آپ کو اپنے حصار میں لے رکھا تھا، پھر انہوں نے پوری حدیث ذکر کی۔
اسے ابوبکر بن ابی شیبہ نے شریک سے، انہوں نے اعمش سے، انہوں نے منہال سے اور انہوں نے عباد بن عبد اللہ سے روایت کیا ہے۔
ابو یعلی نے کہا کہ ہمیں ابوبکر بن ابی شیبہ نے اسی سند سے یہ حدیث بیان کی ہے۔