المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب المناقب— مناقب و فضائل کا بیان۔
بَابُ فَضْلِ أهل اليمن باب: اہلِ یمن کی فضیلت و برتری کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عِيسَى ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : بَيْنَمَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَدِينَةِ قَالَ : اللهُ أَكْبَرُ ، اللهُ أَكْبَرُ ، قَدْ جَاءَ نَصْرُ اللهِ وَالْفَتْحُ ، وَجَاءَ أَهْلُ الْيَمَنِ ، قِيلَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، وَمَا أَهْلُ الْيَمَنِ ؟ قَالَ : قَوْمٌ رَقِيقَةٌ قُلُوبُهُمْ ، لَيِّنَةٌ طَاعَتُهُمُ ، الْإِيمَانُ يَمَانٍ ، وَالْحِكْمَةُ يَمَانِيَةٌ .
4188 \ 2 - وَقَالَ الْبَزَّارُ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، فَذَكَرَهُ .
وَقَالَ : لَمْ يُسْنِدِ الزُّهْرِيُّ عَنْ أَبِي حَازِمٍ غَيْرَ هَذَا .
قُلْتُ : حُسَيْنٌ ضَعِيفٌ .سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ مدینہ منورہ میں تشریف فرما تھے کہ اچانک آپ ﷺ نے پکار کر فرمایا: «اللهُ أَكْبَرُ ، اللهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، یقیناً اللہ کی مدد اور فتح آ پہنچی ہے ﴿نَصْرُ اللهِ وَالْفَتْحُ﴾ [سورة النصر: 1]، اور اہل یمن بھی آ چکے ہیں۔“ عرض کیا گیا: اے اللہ کے رسول! اہل یمن کی کیا خاص بات ہے؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”وہ ایسی قوم ہے جن کے دل نہایت رقیق اور نرم ہیں، ان کی طبیعت میں فرمانبرداری اور اطاعت گزاری کا پہلو بہت نرم ہے، ایمان اہل یمن کا خاصہ ہے اور دانائی و حکمت بھی یمنی ہے۔“
امام بزار نے کہا کہ ہمیں عبداللہ بن سعید نے حدیث بیان کی، انہوں نے حسین بن عیسیٰ سے، پھر انہوں نے سابقہ سند کے ساتھ یہی روایت ذکر کی اور کہا کہ امام زہری نے ابوحازم کے واسطے سے اس کے سوا کوئی اور حدیث مسنداً روایت نہیں کی۔
میں کہتا ہوں کہ اس کی سند میں موجود راوی حسین ضعیف ہے۔