❮
❯
حدیث نمبر: 4187
قَالَ عَبْدٌ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَكَمِ بْنِ أَبَانَ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عِيسَى بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بَحِيرٍ : حَدَّثَنِي أَبِي أَنَّهُ كَانَ فِي الْمَسْجِدِ فَإِذَا هُوَ بِعَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، فَقَالَ لِي : مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ أَنْتَ ؟ فَقُلْتُ : نَعَمْ ، فَقَالَ لِي : ادْنُ مِنِّي أُحَدِّثْكَ بِحَدِيثٍ تَقَرُّ بِهِ عَيْنُكَ ، قَالَ : فَدَنَوْتُ مِنْهُ ، فَقَالَ عَمْرٌو رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : بَيْنَمَا نَحْنُ يَوْمًا جُلُوسًا ، إِذْ أَقْبَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَعَدَ إِلَيْنَا ، ثُمَّ قَالَ : أَيْنَ إِخْوَانِي الَّذِينَ أَنَا مِنْهُمْ وَهُمْ مِنِّي ، أَدْخُلُ الْجَنَّةَ وَهُمْ يَدْخُلُونَ مَعِي ؟ ثُمَّ قَامَ فَذَهَبَ ، فَمَا لَبِثَ أَنْ رَجَعَ فَقَعَدَ ، ثُمَّ قَالَ : أَيْنَ إِخْوَانِي الَّذِينَ أَنَا مِنْهُمْ وَهُمْ مِنِّي ، أَدْخُلُ الْجَنَّةَ وَيَدْخُلُونَ مَعِي ؟ ثُمَّ قَامَ فَذَهَبَ ، فَقَالَ بَعْضُنَا لِبَعْضٍ : لَوْ أَنَّا سَأَلْنَاهُ : أَوَغَيْرُنَا هُمْ يَا رَسُولَ اللهِ ؟ فَمَا كَانَ إِلَّا قَلِيلًا أَنْ رَجَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : أَيْنَ إِخْوَانِي الَّذِينَ أَنَا مِنْهُمْ وَهُمْ مِنِّي ، أَدْخُلُ الْجَنَّةَ وَيَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ مَعِي ؟ فَقُلْنَا : يَا رَسُولَ اللهِ ، أَوَغَيْرُنَا هُمْ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، هُمْ أَهْلُ الْيَمَنِ ، الْمُطْرَحُونَ فِي أَطْرَافِ الْأَرْضِ ، الْمَدْفُوعُونَ عَنْ أَبْوَابِ السُّلْطَانِ ، يَمُوتُ أَحَدُهُمْ وَحَاجَتُهُ فِي صَدْرِهِ لَمْ يَقْضِهَا .
ترجمہ

سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک روز ہم بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک رسول اللہ ﷺ تشریف لائے اور ہمارے پاس بیٹھ کر فرمایا: ”میرے وہ بھائی کہاں ہیں جن کا تعلق مجھ سے ہے اور میرا ان سے، میں جنت میں داخل ہوں گا تو وہ بھی میرے ہمراہ جنت میں داخل ہوں گے؟“ پھر آپ ﷺ کھڑے ہو کر تشریف لے گئے، کچھ ہی دیر بعد واپس آئے اور دوبارہ یہی کلمات ارشاد فرمائے، پھر تیسری مرتبہ واپس تشریف لا کر یہی بات دہرائی، تو ہم نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! کیا وہ ہمارے علاوہ کوئی اور لوگ ہیں؟“ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”ہاں، وہ اہل یمن ہیں، جو زمین کے دور دراز گوشوں میں کسمپرسی کی حالت میں پڑے ہوئے ہیں، جنہیں حکمرانوں کے دروازوں سے دھتکار دیا جاتا ہے، ان میں سے کوئی شخص اس حال میں وفات پا جاتا ہے کہ اس کی کوئی حاجت و ضرورت اس کے سینے ہی میں دبی رہ جاتی ہے جسے وہ دنیا میں پورا نہیں کر پاتا۔“
اس حدیث کی تخریج امام عبد بن حمید نے اپنی مسند (4187) میں کی ہے اور علامہ ہیثمی نے مجمع الزوائد میں اس کے راویوں کو ثقہ قرار دیا ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب المناقب / حدیث: 4187
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف. »
«أخرجه المنتخب من مسند عبد بن حميد برقم: 296»