المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب المناقب— مناقب و فضائل کا بیان۔
بَابُ فَضْلِ هَذِهِ الأمة باب: اس امت کی فضیلت و برتری کا بیان۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ طَارِقٍ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : إِنَّ هَذِهِ الْأُمَّةَ مَرْحُومَةٌ ، لَا عَذَابَ عَلَيْهَا إِلَّا مَا عَذَّبَتْ بِهِ أَنْفُسَهَا ، قُلْتُ : وَكَيْفَ تُعَذِّبُ أَنْفُسَهَا ؟ قَالَ : أَمَا كَانَ يَوْمَ النَّهَرِ عَذَابٌ ، أَمَا كَانَ يَوْمَ الْجَمَلِ عَذَابٌ ، أَمَا كَانَ يَوْمَ صِفِّينَ عَذَابٌ ؟ .سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”بے شک یہ امتِ (محمدیہ) ایسی امت ہے جس پر اللہ تعالیٰ کی خصوصی رحمت و شفقت ہے، اس پر (آخرت کا مستقل) کوئی عذاب نہیں ہے سوائے اس عذاب کے جو یہ (آپس کے فتنوں اور خانہ جنگی کی صورت میں) خود اپنے اوپر مسلط کر لے گی۔“ میں (ابوحازم) نے عرض کیا: یہ امت اپنے آپ کو عذاب کیسے دے گی؟ انہوں نے (وضاحت کرتے ہوئے) فرمایا: ”کیا یومِ نہر (جنگِ نہروان) کا واقعہ ایک عذاب نہ تھا؟ کیا یومِ جمل ایک عذاب نہ تھا؟ اور کیا یومِ صفین ایک عذاب نہ تھا؟“
تخریج: اس روایت کو امام ابن ابی شیبہ نے 'المصنف' (37837) میں روایت کیا ہے، اس کی سند جید ہے اور اس کے شواہد سنن ابی داؤد (4278) اور مسند احمد (19694) میں مرفوعاً بھی موجود ہیں جنہیں علامہ البانی رحمہ اللہ نے صحیح قرار دیا ہے۔