المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب المناقب— مناقب و فضائل کا بیان۔
بَابُ فَضْلِ القرون الأول باب: ابتدائی زمانوں کی فضیلت و برتری کا بیان۔
وَقَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ : حَدَّثَنَا الْمُقْرِئُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، قَالَ : إِنَّ أَبَا الْخَيْرِ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَجُلًا مِنْ جُهَيْنَةَ أَخْبَرَهُ : أَنَّ رَجُلَيْنِ أَتَيَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَنَظَرَ إِلَيْهِمَا ، فَقَالَ : مَذْحِجِيَّانِ أَوْ كِنْدِيَّانِ ، ثُمَّ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : بَلْ كِنْدِيَّانِ ، فَأَتَيَاهُ فَإِذَا هُمَا كِنْدِيَّانِ ، قَالَ أَحَدُهُمَا : أَرَأَيْتَ يَا رَسُولَ اللهِ مَنِ اتَّبَعَ مَا أُرْسِلْتَ بِهِ ، وَصَدَّقَكَ وَلَمْ يَرَكَ ؟ قَالَ : طُوبَى لَهُ ، ثُمَّ طُوبَى لَهُ .
4178 \ 2 - وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُهَنِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : بَيْنَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ طَلَعَ رَاكِبَانِ ، فَلَمَّا رَآهُمَا قَالَ : كِنْدِيَّانِ مَذْحِجِيَّانِ ، حَتَّى أَتَيَا فَإِذَا رَجُلَانِ مِنْ مَذْحِجٍ ، قَالَ : فَدَنَا أَحَدُهُمَا إِلَيْهِ لِيُبَايِعَهُ ، فَلَمَّا أَخَذَ بِيَدِهِ قَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، أَرَأَيْتَ مَنْ آمَنَ بِكَ وَصَدَّقَكَ وَاتَّبَعَكَ ، فَمَاذَا لَهُ ؟ قَالَ : طُوبَى لَهُ ، فَمَسَحَ عَلَى يَدِهِ فَانْصَرَفَ ، ثُمَّ أَقْبَلَ الْآخَرُ حَتَّى أَخَذَ بِيَدِهِ لِيُبَايِعَهُ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، أَرَأَيْتَ مَنْ آمَنَ بِكَ وَصَدَّقَكَ وَاتَّبَعَكَ وَلَمْ يَرَكَ ؟ قَالَ : طُوبَى لَهُ ، ثُمَّ مَسَحَ عَلَى يَدِهِ وَانْصَرَفَ .سیدنا ابو عبدالرحمن الجہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ دو آدمی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، آپ ﷺ نے ان کی طرف دیکھ کر فرمایا: ”یہ قبیلہ مذحج سے ہیں یا قبیلہ کندہ سے؟“ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”بلکہ یہ کندی (قبیلہ کندہ کے) ہیں“، پس وہ دونوں آپ ﷺ کے پاس آئے تو وہ کندی ہی تھے، ان میں سے ایک نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ کا اس شخص کے بارے میں کیا خیال ہے جس نے آپ کی لائی ہوئی شریعت کی پیروی کی اور آپ کی تصدیق کی حالانکہ اس نے آپ کو دیکھا نہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”«طُوبَى لَهُ» ”اس کے لیے درجاتِ عالیہ اور خوشخبری ہے“، پھر آپ ﷺ نے دوبارہ فرمایا: «طُوبَى لَهُ» ”اس کے لیے درجاتِ عالیہ اور خوشخبری ہے“۔
سیدنا ابو عبدالرحمن الجہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کی خدمتِ اقدس میں موجود تھے کہ اچانک دو سوار نمودار ہوئے، جب آپ ﷺ نے انہیں دیکھا تو فرمایا: ”یہ کندی اور مذحجی ہیں“، جب وہ پہنچے تو معلوم ہوا کہ وہ دونوں قبیلہ مذحج کے آدمی تھے، ان میں سے ایک بیعت کی غرض سے آپ ﷺ کے قریب ہوا، جب اس نے آپ ﷺ کا دستِ مبارک تھاما تو عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ کا اس شخص کے بارے میں کیا ارشاد ہے جو آپ پر ایمان لایا، آپ کی تصدیق کی اور آپ کی کامل پیروی کی، تو اس کے لیے کیا اجر و مقام ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”«طُوبَى لَهُ» ”اس کے لیے خوشخبری اور جنت کا مقام ہے“، پھر آپ ﷺ نے اس کے ہاتھ پر اپنا دستِ شفقت پھیرا اور وہ شخص رخصت ہو گیا، پھر دوسرا شخص آگے بڑھا اور بیعت کے لیے آپ ﷺ کا دستِ مبارک تھام کر عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ کا اس شخص کے متعلق کیا خیال ہے جو آپ پر ایمان لایا، آپ کی تصدیق کی اور آپ کی اتباع کی مگر اس نے (ظاہری آنکھوں سے) آپ کا دیدار نہیں کیا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”«طُوبَى لَهُ» ”اس کے لیے خوشخبری اور بلند درجات ہیں“، پھر آپ ﷺ نے اس کے ہاتھ پر اپنا دستِ مبارک پھیرا اور وہ بھی واپس چلا گیا۔