المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب المناقب— مناقب و فضائل کا بیان۔
بَابُ فَضْلِ هَذِهِ الأمة باب: اس امت کی فضیلت و برتری کا بیان۔
قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو سِنَانٍ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ مَكْحُولٍ ، قَالَ : كَانَ لِعُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَى رَجُلٍ مِنَ الْيَهُودِ حَقٌّ ، فَأَتَاهُ يَطْلُبُهُ ، فَلَقِيَهُ فَقَالَ عُمَرُ : لَا وَالَّذِي اصْطَفَى مُحَمَّدًا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْبَشَرِ ، لَا أُفَارِقُكَ وَأَنَا أَطْلُبُكَ بِشَيْءٍ ، فَقَالَ الْيَهُودِيُّ : وَاللهِ مَا اصْطَفَى إِلَيْهِ مُحَمَّدًا عَلَى الْبَشَرِ ، فَلَطَمَهُ عُمَرُ ، فَقَالَ : بَيْنِي وَبَيْنَكَ أَبُو الْقَاسِمِ ، فَقَالَ : إِنَّ عُمَرَ قَالَ : لَا وَالَّذِي اصْطَفَى مُحَمَّدًا عَلَى الْبَشَرِ ، قُلْتُ : وَاللهِ مَا اصْطَفَى اللهُ مُحَمَّدًا عَلَى الْبَشَرِ ، فَلَطَمَنِي ، فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَمَّا أَنْتَ يَا عُمَرُ فَأَرْضِهِ مِنْ لَطْمَتِهِ ، بَلْ يَا يَهُودِيُّ ، آدَمُ صَفِيُّ اللهِ ، وَإِبْرَاهِيمُ خَلِيلُ اللهِ ، وَمُوسَى نَجِيُّ اللهِ ، وَعِيسَى رُوحُ اللهِ ، وَأَنَا حَبِيبُ اللهِ ، بَلْ يَا يَهُودِيُّ تَسَمَّى اللهُ عَزَّ وَجَلَّ بِاسْمَيْنِ سَمَّى بِهِمَا أُمَّتِي : هُوَ السَّلَامُ وَسَمَّى بِهَا أُمَّتِي الْمُسْلِمِينَ ، وَهُوَ الْمُؤْمِنُ وَسَمَّى بِهَا أُمَّتِي الْمُؤْمِنِينَ .
بَلْ يَا يَهُودِيٌّ ، طَلَبْتُمْ يَوْمًا ذُخِرَ لَنَا ، لَنَا الْيَوْمُ ، وَلَكُمْ غَدًا ، وَبَعْدَ غَدٍ لِلنَّصَارَى ، بَلْ يَا يَهُودِيُّ ، أَنْتُمُ الْأَوَّلُونَ وَنَحْنُ الْآخِرُونَ السَّابِقُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، بَلْ وَالْجَنَّةُ مُحَرَّمَةٌ عَلَى الْأَنْبِيَاءِ حَتَّى أَدْخُلَهَا ، وَهِيَ مُحَرَّمَةٌ عَلَى الْأُمَمِ حَتَّى تَدْخُلَهَا أُمَّتِي .سیدنا مکحول رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا ایک یہودی پر کچھ مالی حق (قرض) واجب الادا تھا، پس آپ اس کے پاس اپنا حق طلب کرنے تشریف لے گئے اور جب اس سے ملاقات ہوئی تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے (بات کے دوران) فرمایا: ”نہیں، اس ذات کی قسم جس نے محمد ﷺ کو تمام نوعِ انسانی پر منتخب و برگزیدہ فرمایا ہے، میں تمہارا پیچھا نہیں چھوڑوں گا جب تک کہ میں تم سے اپنا حق وصول نہ کر لوں۔“ اس پر اس یہودی نے کہا: ”اللہ کی قسم! اللہ نے محمد ﷺ کو تمام انسانوں پر برگزیدہ نہیں کیا۔“ یہ سن کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسے ایک طمانچہ جڑ دیا، تو اس یہودی نے کہا: ”میرے اور آپ کے درمیان ابوالقاسم (محمد ﷺ) فیصلہ فرمائیں گے۔“ (جب دربارِ رسالت میں پہنچے) تو اس نے عرض کیا کہ عمر نے یہ کہا تھا: ”نہیں، اس ذات کی قسم جس نے محمد ﷺ کو تمام انسانوں پر برگزیدہ کیا“، اور میں نے جواب میں کہا: ”اللہ کی قسم! اللہ نے محمد ﷺ کو تمام انسانوں پر برگزیدہ نہیں کیا“، جس پر انہوں نے مجھے تھپڑ مار دیا۔ تو نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اے عمر! تم اسے اس کے طمانچے کا بدلہ دے کر راضی کرو۔“ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے یہودی! سنو، آدم علیہ السلام اللہ کے برگزیدہ «صَفِيُّ اللهِ» ”اللہ کے چنے ہوئے“ ہیں، ابراہیم علیہ السلام «خَلِيلُ اللهِ» ”اللہ کے جگری دوست“ ہیں، موسیٰ علیہ السلام «نَجِيُّ اللهِ» ”اللہ کے ہم کلام و رازدار“ ہیں، عیسیٰ علیہ السلام «رُوحُ اللهِ» ”اللہ کی طرف سے روح“ ہیں اور میں «حَبِيبُ اللهِ» ”اللہ کا محبوب“ ہوں۔ بلکہ اے یہودی! اللہ عزوجل نے اپنے دو ناموں کے ساتھ میری امت کو موسوم کیا ہے: وہ خود «السَّلَامُ» ”سلامتی والا“ ہے اور اسی کی نسبت سے میری امت کا نام «الْمُسْلِمِينَ» ”مسلمان“ رکھا، اور وہ خود «الْمُؤْمِنُ» ”امن و امان دینے والا“ ہے اور اسی نام سے میری امت کا نام «الْمُؤْمِنِينَ» ”اہلِ ایمان“ رکھا۔
بلکہ اے یہودی! تم لوگوں نے اس دن (عبادت کے مخصوص دن) کو تلاش کیا جسے ہمارے لیے ذخیرہ کر دیا گیا تھا، چنانچہ آج کا دن (جمعہ) ہمارا ہے، کل کا دن (ہفتہ) تمہارا ہے اور اس سے اگلا دن (اتوار) عیسائیوں کے لیے ہے، اے یہودی! تم لوگ (دنیا میں) پہلے آئے ہو لیکن ہم سب سے آخری ہونے کے باوجود قیامت کے دن سب سے سبقت لے جانے والے ہوں گے، بلکہ جنت تمام انبیاء پر اس وقت تک حرام ہے جب تک میں اس میں داخل نہ ہو جاؤں، اور وہ تمام امتوں پر تب تک حرام ہے جب تک کہ میری امت اس میں داخل نہ ہو جائے۔“