المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب المناقب— مناقب و فضائل کا بیان۔
بَابُ فَضْلِ القرون الأول باب: ابتدائی زمانوں کی فضیلت و برتری کا بیان۔
وَقَالَ الطَّيَالِسِيُّ : حَدَّثَنَا طَلْحَةُ هُوَ ابْنُ عَمْرٍو ، عَنْ نَافِعٍ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ : يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنْتُمْ نَظَرْتُمْ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَعْيُنِكُمْ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : وَكَلَّمْتُمُوهُ بِأَلْسِنَتِكُمْ هَذِهِ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : وَبَايَعْتُمُوهُ بِأَيْمَانِكُمْ هَذِهِ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : طُوبَى لَكُمْ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : أَفَلَا أُخْبِرُكَ عَنْ شَيْءٍ سَمِعْتُهُ مِنْهُ ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : طُوبَى لِمَنْ رَآنِي وَآمَنَ بِي ، وَطُوبَى لِمَنْ آمَنَ بِي وَلَمْ يَرَنِي - ثَلَاثًا .
4177 \ 2 - وَقَالَ عَبْدٌ : حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا طَلْحَةُ بْنُ عَمْرٍو بِهِ .سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص ان کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی: ”اے ابوعبدالرحمن! کیا آپ لوگوں نے اپنی آنکھوں سے رسول اللہ ﷺ کا دیدار کیا ہے؟“ انہوں نے جواب دیا: ”جی ہاں۔“ اس نے پوچھا: ”کیا آپ نے اپنی زبانوں سے آپ ﷺ سے گفتگو بھی کی ہے؟“ انہوں نے فرمایا: ”جی ہاں۔“ اس نے پوچھا: ”کیا آپ نے اپنے ہاتھوں سے آپ ﷺ کی بیعت بھی کی ہے؟“ انہوں نے فرمایا: ”جی ہاں۔“ اس شخص نے کہا: ”اے ابوعبدالرحمن! آپ لوگوں کے لیے خوشخبری ہے۔“ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں وہ بات نہ بتاؤں جو میں نے خود رسول اللہ ﷺ سے سنی ہے؟ میں نے آپ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: خوشخبری ہے اس شخص کے لیے جس نے مجھے دیکھا اور مجھ پر ایمان لایا، اور خوشخبری ہے اس شخص کے لیے جو مجھ پر ایمان لایا حالانکہ اس نے مجھے نہیں دیکھا۔“ آپ ﷺ نے یہ کلمات تین مرتبہ ارشاد فرمائے۔
اسے امام طیالسی اور عبد بن حمید نے روایت کیا ہے۔