المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب المناقب— مناقب و فضائل کا بیان۔
بَابُ الزَّجْرِ عَنْ ذِكْرِ الصحابة رضي اللَّهُ عنهم بسوء باب: صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو برائی سے یاد کرنے کی ممانعت کا بیان۔
قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو الرَّقِّيِّ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ خَيْثَمَةَ ، قَالَ : كَانَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي نَفَرٍ ، فَذَكَرُوا عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَشَتَمُوهُ ، فَقَالَ سَعْدٌ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : مَهْلًا عَنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَإِنَّا أَصَبْنَا ذَنْبًا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ : لَوْلا كِتَابٌ مِنَ اللهِ سَبَقَ لَمَسَّكُمْ فِيمَا أَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ ، وَأَرْجُو أَنْ تَكُونَ رَحْمَةٌ مِنَ اللهِ تَعَالَى سَبَقَتْ لَنَا ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ : إِنْ كَانَ وَاللهِ يُبْغِضُكَ وَيُسَمِّيكَ الْأُخَيْنِسَ ، فَضَحِكَ سَعْدٌ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ حَتَّى اسْتَعْلَاهُ الضَّحِكُ ، ثُمَّ قَالَ : أَوَلَيْسَ الرَّجُلُ قَدْ يَجِدُ عَلَى أَخِيهِ فِي الْأَمْرِ يَكُونُ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ ثُمَّ لَا يَبْلُغُ ذَلِكَ أَمَانَتَهُ ، وَذَكَرَ كَلِمَةً أُخْرَى .
هَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ ، وَقَدِ اشْتَمَلَ عَلَى فَوَائِدَ جَلِيلَةٍ .خیثمہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ چند لوگوں کی محفل میں موجود تھے کہ وہاں لوگوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا تذکرہ کیا اور انہیں برا بھلا کہا، تو سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے (انہیں ٹوکتے ہوئے) فرمایا: ”اللہ کے رسول ﷺ کے صحابہ کے بارے میں لب کشائی سے باز رہو؛ کیونکہ ہم سے اللہ کے رسول ﷺ کی معیت میں ایک خطا سرزد ہوئی تھی جس پر اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿لَوْلا كِتَابٌ مِنَ اللهِ سَبَقَ لَمَسَّكُمْ فِيمَا أَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ﴾ [سورة الأنفال: 68] یعنی ”اگر اللہ کا ایک لکھا ہوا فیصلہ پہلے سے موجود نہ ہوتا تو جو تم نے (فدیہ) لیا ہے اس کے بدلے تمہیں بڑا عذاب پہنچتا“، اور مجھے اللہ سے قوی امید ہے کہ ہمارے حق میں اللہ تعالیٰ کی رحمت کا فیصلہ پہلے ہی صادر ہو چکا ہے۔“ تب ان میں سے کسی نے (سیدنا سعد کو اکسانے کے لیے) کہا: ”اللہ کی قسم! وہ (علی رضی اللہ عنہ) تو آپ سے بغض رکھتے تھے اور آپ کو «الْأُخَيْنِسَ» ”دبی ہوئی ناک والا“ کہہ کر پکارتے تھے۔“ یہ سن کر سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کھلکھلا کر ہنس پڑے یہاں تک کہ ان پر ہنسی غالب آگئی، پھر انہوں نے فرمایا: ”کیا ایسا نہیں ہوتا کہ کسی (باہمی) معاملے کی وجہ سے ایک شخص اپنے بھائی کے خلاف دل میں کچھ رنجش پائے، لیکن وہ (رنجش) اس کی امانت و دیانت (اور فضیلت کے اعتراف) میں مانع نہیں ہوتی؟“ اور انہوں نے ایک اور بات بھی کہی۔
یہ اسناد صحیح ہے اور یہ روایت جلیل القدر فوائد پر مشتمل ہے۔