المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب المناقب— مناقب و فضائل کا بیان۔
بَابُ الزَّجْرِ عَنْ ذِكْرِ الصحابة رضي اللَّهُ عنهم بسوء باب: صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو برائی سے یاد کرنے کی ممانعت کا بیان۔
وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا شَبَابَةُ ، حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ مَرْزُوقٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ خَالِدٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ قَالَ : صَحِبْنَا أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، وَقَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : دَعُوا أَصْهَارِي وَأَصْحَابِي ، فَإِنَّهُ مَنْ حَفِظَنِي فِيهِمْ كَانَ مَعَهُ مِنَ اللهِ حَافِظٌ ، وَمَنْ لَمْ يَحْفَظْنِي فِيهِمْ تَخَلَّى اللهُ مِنْهُ ، وَمَنْ تَخَلَّى اللهُ مِنْهُ يُوشِكُ أَنْ يَأْخُذَهُ .سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی صحبت اختیار کرنے والے ایک انصاری شخص سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”میرے سسرالی رشتہ داروں اور میرے صحابہ کو (برا بھلا کہنے یا اذیت دینے سے) چھوڑ دو، کیونکہ جس شخص نے ان کے معاملے میں میرا لحاظ و پاس رکھا تو اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی جانب سے ایک حفاظت کرنے والا (نگہبان) ہوگا، اور جس نے ان کے حق میں میرا لحاظ نہ رکھا تو اللہ سبحانہ و تعالیٰ اس سے دستبردار ہو جائے گا، اور جس سے اللہ تعالیٰ دستبردار ہو جائے تو قریب ہے کہ وہ اسے اپنی گرفت میں لے لے۔“
اس حدیث کی تخریج امام احمد بن منیع نے اپنی مسند میں کی ہے، اس کی سند میں موجود راوی فضیل بن مرزوق کو امام مسلم نے اپنی صحیح میں جگہ دی ہے اور اسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے، جبکہ دیگر نے ان کے حافظے پر کلام کیا ہے، نیز سند میں موجود انصاری راوی کا نام مبہم ہے۔