المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب المناقب— مناقب و فضائل کا بیان۔
بَابُ فَضْلِ الصحابة والتابعين عَلَى الْإِجْمَالِ باب: صحابہ اور تابعین کی عمومی فضیلت کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُبَيْدَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا لَيْتَنِي لَقِيتُ إِخْوَانِي ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللهِ ، أَلَسْنَا إِخْوَانَكَ وَأَصْحَابَكَ ؟ قَالَ : بَلَى ، وَلَكِنْ قَوْمًا يَجِيئُونَ مِنْ بَعْدِكُمْ ، يُؤْمِنُونَ بِي إِيمَانَكُمْ ، وَيُصَدِّقُونِي تَصْدِيقَكُمْ ، وَيَنْصُرُونِي نَصْرَكُمْ ، فَيَا لَيْتَنِي لَقِيتُ إِخْوَانِي .
( 196 ) وَحَدِيثُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ تَقَدَّمَ فِي الْإِيمَانِ .سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے (کمالِ شوق میں) ارشاد فرمایا: ”اے کاش! میں اپنے بھائیوں سے ملاقات کرتا۔“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے (تعجب سے) عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! کیا ہم آپ کے بھائی اور آپ کے رفقاء نہیں ہیں؟“ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”کیوں نہیں، لیکن (میرے بھائی) وہ لوگ ہیں جو تمہارے بعد آئیں گے، وہ مجھ پر ویسا ہی (کامل) ایمان لائیں گے جیسا تم ایمان لائے ہو، وہ میری ویسی ہی (صدقِ دل سے) تصدیق کریں گے جیسی تم نے میری تصدیق کی ہے اور وہ (دین کی خاطر) میری ویسی ہی مدد و نصرت کریں گے جیسی تم نے میری مدد کی ہے، پس اے کاش! میں اپنے ان بھائیوں سے مل پاتا۔“
(196) اور سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی اسی مفہوم کی حدیث کتاب الایمان میں پہلے گزر چکی ہے۔