المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب المناقب— مناقب و فضائل کا بیان۔
بَابُ فَضْلِ الصحابة والتابعين عَلَى الْإِجْمَالِ باب: صحابہ اور تابعین کی عمومی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 4162
وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ زَيْدٍ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عَامِرٍ ، عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا تَزَالُونَ بِخَيْرٍ مَا دَامَ فِيكُمْ مَنْ رَآنِي وَصَاحَبَنِي ، وَاللهِ لَا تَزَالُونَ بِخَيْرٍ مَا دَامَ فِيكُمْ مَنْ رَأَى مَنْ رَآنِي وَصَاحَبَ مَنْ صَاحَبَنِي .ترجمہ
سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تم لوگ اس وقت تک ہمیشہ خیر و بھلائی سے وابستہ رہو گے جب تک تم میں ایسا شخص موجود رہے گا جس نے میرا دیدار کیا اور میری صحبت و رفاقت اختیار کی، اور اللہ کی قسم! تم اس وقت تک خیر و بھلائی پر قائم رہو گے جب تک تم میں ایسا شخص موجود رہے گا جس نے اس شخص کا دیدار کیا جس نے میرا دیدار کیا تھا اور اس کی صحبت میں رہا جو میری صحبت میں رہا تھا۔“
اس حدیث کو امام ابوبکر بن ابی شیبہ نے روایت کیا ہے، اس کے راوی ثقہ ہیں اور یہ روایت دیگر شواہد کی بنا پر صحیح یا حسن کے درجے پر فائز ہے۔