❮
❯
حدیث نمبر: 4163
وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا رَجُلٌ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : لَا تَسُبُّوا أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَإِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ أَمَرَ بِالِاسْتِغْفَارِ لَهُمْ ، وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّهُمْ سَيُحْدِثُونَ وَيَفْعَلُونَ .
ترجمہ

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”تم محمد ﷺ کے صحابہ کو گالی نہ دو اور نہ ہی انہیں برا بھلا کہو، کیونکہ اللہ عزوجل نے (اہلِ ایمان کو) ان کے لیے دعائے مغفرت کرنے کا حکم دیا ہے، حالانکہ وہ (باری تعالیٰ) یہ پہلے سے خوب جانتا تھا کہ وہ عنقریب (فتنوں اور بشری تقاضوں کے تحت) کچھ ایسے افعال اور معاملات کریں گے (جن کی بنیاد پر تم ان پر تنقید کرو گے)۔“
اس روایت کو امام احمد بن منیع نے نقل کیا ہے، اس کی سند میں ایک راوی کے مبہم ہونے کی وجہ سے یہ ضعیف ہے، البتہ اس کا مفہوم قرآن مجید کی اس آیت مبارکہ سے ثابت ہے: ﴿وَالَّذِينَ جَاءُوا مِنْ بَعْدِهِمْ يَقُولُونَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالْإِيمَانِ﴾ [سورة الحشر: 10]۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب المناقب / حدیث: 4163
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف. »
«انفرد به المصنف من هذا الطريق»