المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الصلاة— نماز کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الْأَمْرِ بِاتِّبَاعِ الْإِمَامِ فِي أَفْعَالِهِ باب: نماز کے افعال میں امام کی پیروی کا حکم۔
حدیث نمبر: 415
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَابِرٍ ، ثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ بَدْرٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ شَيْبَانَ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : صَلَّيْتُ خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَرَفَعَ رَجُلٌ رَأْسَهُ قَبْلَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ : " مَنْ رَفَعَ رَأْسَهُ قَبْلَ الْإِمَامِ أَوْ وَضَعَ فَلَا صَلَاةَ لَهُ " .ترجمہ
سیدنا علی بن شیبان اپنے والد رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم ﷺ کی اقتدا میں نماز ادا کی، (دورانِ نماز) ایک شخص نے نبی کریم ﷺ سے پہلے ہی اپنا سر (رکوع یا سجدے سے) اٹھا لیا، پس جب آپ ﷺ نماز مکمل فرما کر مڑے تو ارشاد فرمایا: ”جس نے امام سے پہلے اپنا سر اٹھایا یا (سجدے میں) رکھا، تو اس کی کوئی نماز نہیں ہے۔“
یہ روایت امام مسدد نے اپنی مسند میں بیان کی ہے، جس میں امام سے سبقت کرنے پر نماز کے باطل ہونے یا ثواب کی نفی کی وعید مذکور ہے۔