المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الصلاة— نماز کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الْأَمْرِ بِاتِّبَاعِ الْإِمَامِ فِي أَفْعَالِهِ باب: نماز کے افعال میں امام کی پیروی کا حکم۔
وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ ، ثَنَا عُمَرُ بْنُ مُوسَى ، أَنَا مُوسَى بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ كَانَ يُصَلِّي لِلنَّاسِ هَا هُنَا ، فَكَانَ أُنَاسٌ يَضَعُونَ رُؤُوسَهُمْ قَبْلَ أَنْ يَضَعَ رَأْسَهُ ، وَيَرْفَعُونَ رُؤُوسَهُمْ قَبْلَ أَنْ يَرْفَعَ رَأْسَهُ ، فَلَمَّا انْصَرَفَ الْتَفَتَ إِلَيْهِمْ ، فَقَالَ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ لِمَ تَأْثَمُونَ وَتُأَثِّمُونَ ؟ صَلَّيْتُ لَكُمْ صَلَاةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا أَخْرِمُ عَنْهَا .سیدنا عبداللہ بن یزید رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے موسیٰ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ وہ یہاں (مقامِ مذکور پر) لوگوں کی امامت فرمایا کرتے تھے، تو کچھ لوگ امام کے سجدہ کرنے سے پہلے ہی اپنا سر سجدے میں رکھ دیتے تھے اور امام کے سر اٹھانے سے پہلے ہی اپنا سر اٹھا لیتے تھے، پس جب وہ نماز سے فارغ ہوئے تو ان کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: ”اے لوگو! تم خود کیوں گناہ سمیٹ رہے ہو اور دوسروں کو بھی گناہ میں کیوں مبتلا کر رہے ہو؟ میں نے تمہیں ہو بہو اللہ کے رسول ﷺ کی نماز کی طرح نماز پڑھائی ہے اور میں نے اس (طریقہِ نبوی ﷺ) سے ذرہ برابر بھی انحراف نہیں کیا ہے۔“
اس حدیث کو امام ابوبکر بن ابی شیبہ نے فضل بن دکین، عمر بن موسیٰ اور موسیٰ بن عبداللہ بن یزید کے واسطے سے روایت کیا ہے۔