المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب المناقب— مناقب و فضائل کا بیان۔
بَابُ فَضْلِ الأنصار رضي اللَّهُ عنهم باب: انصار رضی اللہ عنہم کی فضیلت کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى زَحْمَوَيْهِ ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ ، عَنِ ابْنِ شَفِيعٍ الطَّبِيبِ ، قَالَ : دَعَانِي أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَطَعْتُ لَهُ عِرْقَ النَّسَا ، فَحَدَّثَنِي بِحَدِيثَيْنِ ، قَالَ : أَتَانِي أَهْلُ بَيْتَيْنِ مِنْ قَوْمِي : أَهْلُ بَيْتٍ مِنْ بَنِي ظَفَرٍ ، وَأَهْلُ بَيْتٍ مِنْ بَنِي مُعَاوِيَةَ ، فَقَالُوا : كَلِّمْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَنَا ، أَوْ نَحْوَ هَذَا . فَكَلَّمْتُهُ ، فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : نَعَمْ ، أَقْسِمُ لِأَهْلِ كُلِّ بَيْتٍ مِنْهُمْ بِشَطْرٍ ، فَإِنْ عَادَ اللهُ - عَزَّ وَجَلَّ - عُدْنَا عَلَيْهِمْ ، قَالَ : قُلْتُ : جَزَاكَ اللهُ خَيْرًا يَا رَسُولَ اللهِ ، قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَأَنْتُمْ فَجَزَاكُمُ اللهُ خَيْرًا ، فَإِنَّكُمْ مَا عَلِمْتُ أَعِفَّةٌ صُبُرٌ ، قَالَ : وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : إِنَّكُمْ سَتَلْقَوْنَ بَعْدِي أَثَرَةً .
فَلَمَّا كَانَ زَمَنُ عُمَرَ قَسَمَ حُلَلًا بَيْنَ النَّاسِ ، فَبَعَثَ إِلَيَّ مِنْهَا بِحُلَّةٍ ، فَاسْتَصْغَرْتُهَا فَأَعْطَيْتُهَا ابْنِي ، فَبَيْنَا أَنَا أُصَلِّي إِذْ مَرَّ بِي شَابٌّ مِنْ قُرَيْشٍ عَلَيْهِ حُلَّةٌ مِنْ تِلْكَ الْحُلَلِ يَجُرُّهَا ، فَذَكَرْتُ قَوْلَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ : صَدَقَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَانْطَلَقَ رَجُلٌ إِلَى عُمَرَ ، فَأَخْبَرَهُ ، فَجَاءَ وَأَنَا أُصَلِّي ، فَقَالَ : صَلِّ يَا أُسَيْدُ ، فَلَمَّا قَضَيْتُ صَلَاتِي ، قَالَ : تِلْكَ حُلَّةٌ بَعَثْتُ بِهَا إِلَى فُلَانٍ ، وَهُوَ بَدْرِيٌّ أُحُدِيٌّ عَقَبِيٌّ ، فَأَتَاهُ هَذَا الْفَتَى فَابْتَاعَهَا مِنْهُ فَلَبِسَهَا ، فَظَنَنْتَ أَنَّ ذَلِكَ يَكُونُ فِي زَمَانِي ؟ قَالَ : قُلْتُ : قَدْ - وَاللهِ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ - ظَنَنْتُ أَنَّ ذَلِكَ لَا يَكُونُ فِي زَمَانِكَ .ابن شفیع طبیب سیدنا اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے مجھے بلایا اور میں نے ان کے عرق النسا (رگِ نسا کے درد) کا علاج کیا، اس موقع پر انہوں نے مجھے دو احادیث سنائیں، انہوں نے کہا: میری قوم کے دو گھرانوں یعنی بنو ظفر اور بنو معاویہ کے کچھ لوگ میرے پاس آئے اور کہا کہ آپ رسول اللہ ﷺ سے ہمارے حق میں سفارش کریں، چنانچہ میں نے آپ ﷺ سے بات کی تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”ٹھیک ہے، میں ان میں سے ہر گھرانے کے لیے ایک حصہ مقرر کرتا ہوں، اور اگر اللہ عزوجل نے دوبارہ ہمیں مال عطا فرمایا تو ہم انہیں مزید نوازیں گے۔“ اسید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کی: «جَزَاكَ اللهُ خَيْرًا يَا رَسُولَ اللهِ» ”اے اللہ کے رسول! اللہ آپ کو بہتر جزا عطا فرمائے۔“ تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: «وَأَنْتُمْ فَجَزَاكُمُ اللهُ خَيْرًا» ”اور اللہ تم لوگوں کو بھی جزائے خیر دے، کیونکہ جہاں تک میرا علم ہے تم لوگ نہایت پاکدامن اور صبر کرنے والے ہو۔“ نیز اسید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”تم میرے بعد عنقریب یہ دیکھو گے کہ دوسروں کو تم پر ترجیح (استحقاق کے باوجود حق تلفی و اقربا پروری) دی جائے گی۔“
پھر جب سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا زمانہ آیا تو انہوں نے لوگوں کے درمیان یمنی جوڑے تقسیم کیے، انہوں نے مجھے بھی ان میں سے ایک جوڑا بھیجا جسے میں نے کم قیمت یا چھوٹا سمجھ کر اپنے بیٹے کو دے دیا، ایک بار میں نماز پڑھ رہا تھا کہ میرے پاس سے قریش کا ایک نوجوان گزرا جس نے وہی لباس پہن رکھا تھا اور اسے زمین پر گھسیٹ رہا تھا، اسے دیکھ کر مجھے رسول اللہ ﷺ کا فرمان یاد آ گیا اور میں نے کہا: ”رسول اللہ ﷺ نے سچ فرمایا تھا۔“ کسی شخص نے جا کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو یہ بات بتا دی، تو وہ میرے پاس آئے جبکہ میں نماز پڑھ رہا تھا، انہوں نے کہا: ”اے اسید! اپنی نماز پڑھ لو۔“ جب میں فارغ ہوا تو انہوں نے کہا: ”وہ لباس جو میں نے فلاں شخص کو بھیجا تھا جو کہ بدری، احدی اور بیعتِ عقبہ والے صحابی ہیں، اس نوجوان نے ان سے وہ لباس خرید لیا اور پہن لیا، تو کیا آپ نے یہ گمان کر لیا تھا کہ وہ پیشگوئی میرے دور میں پوری ہوگی؟“ میں نے عرض کی: ”اے امیر المومنین! اللہ کی قسم، میرا گمان تو یہی تھا کہ ایسا آپ کے عہد میں نہیں ہوگا۔“