المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب المناقب— مناقب و فضائل کا بیان۔
بَابُ فَضْلِ الأنصار رضي اللَّهُ عنهم باب: انصار رضی اللہ عنہم کی فضیلت کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، ثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ ، قَالَ : إِنَّ أَبَا بَكْرِ بْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ قَيْسٍ ، حَدَّثَنَا عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُكْثِرُ زِيَارَةَ الْأَنْصَارِ خَاصَّةً وَعَامَّةً ، فَكَانَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا زَارَ خَاصًّا أَتَى الرَّجُلَ فِي مَنْزِلِهِ ، وَإِذَا زَارَ عَامًّا أَتَى الْمَسْجِدَ .ابوبکر بن عبداللہ بن قیس اپنے والد (سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ انصار کی (دلجوئی اور خیر خواہی کے لیے) کثرت سے زیارت و ملاقات فرمایا کرتے تھے، خواہ وہ خصوصی و انفرادی نوعیت کی ہو یا عمومی و اجتماعی؛ آپ ﷺ کا معمولِ مبارک یہ تھا کہ ”جب آپ ﷺ کسی سے خصوصی ملاقات فرماتے تو اس شخص کے گھر تشریف لے جاتے، اور جب عمومی طور پر سب سے ملاقات کا ارادہ ہوتا تو (ان کے محلے کی) مسجد میں تشریف لاتے“۔
اس حدیث کو امام ابوبکر بن ابی شیبہ نے روایت کیا ہے، اس کی سند میں ایک انصاری راوی مبہم ہے، تاہم دیگر صحیح روایات سے نبی کریم ﷺ کا انصار کے گھروں میں تشریف لے جانا اور ان کی تکریم کرنا ثابت ہے۔