المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب المناقب— مناقب و فضائل کا بیان۔
بَابُ فَضْلِ الأنصار رضي اللَّهُ عنهم باب: انصار رضی اللہ عنہم کی فضیلت کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ النِّيلِيُّ ، ثَنَا صَالِحٌ الْمُرِّيُّ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ بَعْضِ الْمُهَاجِرِينَ ، قَالَ : قَالُوا : يَا رَسُولَ اللهِ ، مَا رَأَيْنَا مِثْلَ قَوْمٍ نَزَلْنَا بِهِمْ ، يَعْنِي : الْأَنْصَارَ ، لَقَدْ أَشْرَكُونَا فِي أَمْوَالِهِمْ وَكَفَوْنَا الْمُؤْنَةَ ، وَلَقَدْ خِفْنَا أَنْ يَكُونُوا قَدْ ذَهَبُوا بِالْأَجْرِ كُلِّهِ ، فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كَلَّا ، مَا دَعَوْتُمُ اللهَ - عَزَّ وَجَلَّ - لَهُمْ وَأَثْنَيْتُمْ عَلَيْهِمْ ، فَلَمْ يَذْهَبُوا بِالْأَجْرِ كُلِّهِ .بعض مہاجر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! ہم نے ان لوگوں (یعنی انصار) جیسا (ایثار کرنے والا) کوئی نہیں دیکھا جن کے ہاں ہم نے قیام کیا ہے؛ انہوں نے اپنے مال و دولت میں ہمیں شریک کیا اور (محنت و مشقت کے کام خود سنبھال کر) ہماری معاشی ضروریات اور بوجھ کی کفایت کی، یہاں تک کہ ہمیں یہ اندیشہ لاحق ہو گیا کہ کہیں وہ سارا کا سارا اجر و ثواب ہی نہ سمیٹ لیں۔“ تو نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”ایسا نہیں ہے، جب تک تم ان کے حق میں اللہ عزوجل سے دعا کرتے رہو گے اور ان کا (محسنانہ) خیر و خوبی کے ساتھ تذکرہ کرتے رہو گے، تو وہ تنہا سارا اجر نہیں لے جا سکیں گے۔“
اس حدیث کو امام ابو یعلیٰ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، اگرچہ اس کی سند میں حسن بصری کا بعض مہاجرین سے واسطہ ہے، تاہم یہ روایت دیگر مستند ذرائع مثلاً سنن ترمذی اور سنن ابی داؤد میں سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے صحیح سند کے ساتھ منقول ہے جس میں احسان کرنے والے کے حق میں دعا اور شکریہ ادا کرنے کی فضیلت بیان ہوئی ہے۔