❮
❯
حدیث نمبر: 4139
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ عَبْدِ اللهِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قُدَامَةَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : رَأَيْتُ الْحَجَّاجَ يَضْرِبُ عَبَّاسَ بْنَ سَهْلٍ فِي إِمْرَةِ ابْنِ الزُّبَيْرِ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - فَأَتَاهُ سَهْلُ بْنُ سَعْدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَهُوَ شَيْخٌ كَبِيرٌ لَهُ ضَفِيرَتَانِ ، وَعَلَيْهِ ثَوْبَانِ : إِزَارٌ وَرِدَاءٌ ، فَوَقَفَ بَيْنَ يَدَيِ السِّمَاطَيْنِ ، فَقَالَ : يَا حَجَّاجُ ، أَلَا تَحْفَظُ فِينَا وَصِيَّةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : وَمَا أَوْصَى بِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيكُمْ ؟ قَالَ : أَنْ يُحْسَنَ إِلَى مُحْسِنِ الْأَنْصَارِ ، وَيُعْفَى عَنْ مُسِيئِهِمْ ، قَالَ : فَأَرْسَلَهُ .
أَخْرَجَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي صَحِيحِهِ عَنْ أَبِي يَعْلَى .
ترجمہ

قدامہ بن ابراہیم سے روایت ہے کہ میں نے حجاج کو دیکھا وہ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کے دورِ خلافت میں عباس بن سہل کو سزا دے رہا تھا، اتنے میں سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ تشریف لائے، وہ ایک نہایت بزرگ صحابی تھے جن کے سر کے بالوں کی دو لٹیں (مینڈھیاں) تھیں اور وہ تہبند اور چادر پر مشتمل دو لباس زیب تن کیے ہوئے تھے؛ وہ پہرے داروں کی دونوں صفوں کے درمیان آ کر کھڑے ہو گئے اور فرمایا: ”اے حجاج! کیا تو ہمارے بارے میں رسول اللہ ﷺ کی وصیت کا لحاظ نہیں رکھتا؟“ حجاج نے پوچھا: ”رسول اللہ ﷺ نے آپ لوگوں کے بارے میں کیا وصیت فرمائی تھی؟“ انہوں نے جواب دیا: ”(آپ ﷺ نے فرمایا تھا کہ) انصار کے نیکوکاروں کے ساتھ حسنِ سلوک کیا جائے اور ان کے خطاکاروں سے درگزر کیا جائے۔“ راوی کہتے ہیں کہ یہ سن کر حجاج نے انہیں رہا کر دیا۔
اسے امام ابنِ حبان نے اپنی صحیح میں امام ابو یعلیٰ کے واسطے سے نقل کیا ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب المناقب / حدیث: 4139
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف »
«أخرجه المعجم الكبير للطبراني برقم: 6028، وأخرجه المعجم الأوسط للطبراني برقم: 839، وأخرجه مجمع الزوائد ومنبع الفوائد برقم: 16498، 16499، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 3000»