المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب المناقب— مناقب و فضائل کا بیان۔
بَابُ فَضْلِ الأنصار رضي اللَّهُ عنهم باب: انصار رضی اللہ عنہم کی فضیلت کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ عَبْدِ اللهِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قُدَامَةَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : رَأَيْتُ الْحَجَّاجَ يَضْرِبُ عَبَّاسَ بْنَ سَهْلٍ فِي إِمْرَةِ ابْنِ الزُّبَيْرِ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - فَأَتَاهُ سَهْلُ بْنُ سَعْدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَهُوَ شَيْخٌ كَبِيرٌ لَهُ ضَفِيرَتَانِ ، وَعَلَيْهِ ثَوْبَانِ : إِزَارٌ وَرِدَاءٌ ، فَوَقَفَ بَيْنَ يَدَيِ السِّمَاطَيْنِ ، فَقَالَ : يَا حَجَّاجُ ، أَلَا تَحْفَظُ فِينَا وَصِيَّةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : وَمَا أَوْصَى بِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيكُمْ ؟ قَالَ : أَنْ يُحْسَنَ إِلَى مُحْسِنِ الْأَنْصَارِ ، وَيُعْفَى عَنْ مُسِيئِهِمْ ، قَالَ : فَأَرْسَلَهُ .
أَخْرَجَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي صَحِيحِهِ عَنْ أَبِي يَعْلَى .قدامہ بن ابراہیم سے روایت ہے کہ میں نے حجاج کو دیکھا وہ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کے دورِ خلافت میں عباس بن سہل کو سزا دے رہا تھا، اتنے میں سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ تشریف لائے، وہ ایک نہایت بزرگ صحابی تھے جن کے سر کے بالوں کی دو لٹیں (مینڈھیاں) تھیں اور وہ تہبند اور چادر پر مشتمل دو لباس زیب تن کیے ہوئے تھے؛ وہ پہرے داروں کی دونوں صفوں کے درمیان آ کر کھڑے ہو گئے اور فرمایا: ”اے حجاج! کیا تو ہمارے بارے میں رسول اللہ ﷺ کی وصیت کا لحاظ نہیں رکھتا؟“ حجاج نے پوچھا: ”رسول اللہ ﷺ نے آپ لوگوں کے بارے میں کیا وصیت فرمائی تھی؟“ انہوں نے جواب دیا: ”(آپ ﷺ نے فرمایا تھا کہ) انصار کے نیکوکاروں کے ساتھ حسنِ سلوک کیا جائے اور ان کے خطاکاروں سے درگزر کیا جائے۔“ راوی کہتے ہیں کہ یہ سن کر حجاج نے انہیں رہا کر دیا۔
اسے امام ابنِ حبان نے اپنی صحیح میں امام ابو یعلیٰ کے واسطے سے نقل کیا ہے۔