❮
❯
حدیث نمبر: 413
وَقَالَ عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، ثَنَا خَالِدُ بْنُ إِلْيَاسَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ رِفَاعَةَ قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، فَوَجَدْتُهُ جَالِسًا يُصَلِّي لِأَصْحَابِهِ الْعَصْرَ ، وَهُمْ جُلُوسٌ : قَالَ : فَنَظَرْتُ حَتَّى سَلَّمَ ثُمَّ قُلْتُ : غَفَرَ اللهُ لَكَ ، أَنْتَ صَاحِبُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُصَلِّي بِهِمْ وَأَنْتَ جَالِسٌ ؟
قَالَ : أَنَا مَرِيضٌ ، فَجَلَسْتُ ، فَأَمَرْتُهُمْ أَنْ يَجْلِسُوا ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " الْإِمَامُ جُنَّةٌ ، فَإِذَا صَلَّى قَائِمًا فَصَلُّوا قِيَامًا ، وَإِنْ صَلَّى جَالِسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا " .
ترجمہ

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے ابراہیم بن عبید بن رفاعہ روایت کرتے ہیں کہ میں سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوا تو میں نے انہیں اس حال میں پایا کہ وہ اپنے ساتھیوں کو عصر کی نماز بیٹھ کر پڑھا رہے تھے اور وہ لوگ بھی بیٹھے ہوئے تھے، ابراہیم کہتے ہیں کہ میں انہیں مسلسل دیکھتا رہا یہاں تک کہ انہوں نے سلام پھیر دیا، پھر میں نے ان سے عرض کیا: «غَفَرَ اللهُ لَكَ» ”اللہ آپ کی مغفرت فرمائے“، کیا آپ رسول اللہ ﷺ کے صحابی ہو کر انہیں بیٹھ کر نماز پڑھا رہے ہیں؟
انہوں نے جواب دیا: ”میں بیمار ہوں اس لیے میں بیٹھ کر نماز پڑھ رہا ہوں اور میں نے ہی انہیں بھی بیٹھنے کا حکم دیا ہے، کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”امام تو ایک ڈھال (اور پیشوا) ہے، پس جب وہ کھڑے ہو کر نماز پڑھے تو تم بھی کھڑے ہو کر نماز پڑھو، اور جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم سب بھی بیٹھ کر نماز پڑھو۔““
اس حدیث کی سند میں خالد بن الیاس متروک الحدیث راوی ہے، تاہم امام کی اقتداء میں بیٹھ کر نماز پڑھنے کا ذکر دیگر صحیح احادیث میں بھی موجود ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الصلاة / حدیث: 413
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف جدًا، موقوف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :موقوف، إسناده ضعيف جدًا. »
«أخرجه الدارقطني فى «سننه» برقم: 1564، وعبد بن حميد فى "المنتخب من مسنده"، 1152، وأورده ابن حجر فى "المطالب العالية"، 413، 413، 630»