المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب المناقب— مناقب و فضائل کا بیان۔
بَابُ فَضْلِ قريش باب: قریش کی فضیلت و برتری کا بیان۔
حدیث نمبر: 4133
وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : تَعَلَّمُوا مِنْ قُرَيْشٍ وَلَا تُعَلِّمُوهَا ، وَقَدِّمُوا قُرَيْشًا وَلَا تُؤَخِّرُوهَا ، فَإِنَّ لِلْقُرَشِيِّ قُوَّةَ الرَّجُلَيْنِ مِنْ غَيْرِ قُرَيْشٍ .ترجمہ
سیدنا سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”قریش سے (علم و بصیرت) حاصل کرو اور انہیں سکھانے کی کوشش نہ کرو، اور قریش کو (امامت و قیادت میں) مقدم رکھو اور انہیں پیچھے نہ دھکیلو، کیونکہ قریش کے ایک آدمی میں غیر قریش کے دو مردوں کے برابر قوت و صلاحیت ہوتی ہے۔“
اس حدیث کو امام ابوبکر بن ابی شیبہ نے اپنی مصنف میں روایت کیا ہے اور اس کی سند میں معمر عن الزہری کا طریق موجود ہے، جبکہ دیگر ائمہ حدیث نے بھی اسے مختلف اسناد سے روایت کیا ہے جس میں قریش کی فضیلت اور ان کی فطری استعداد کا بیان ہے۔