المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب المناقب— مناقب و فضائل کا بیان۔
بَابُ فَضْلِ قريش باب: قریش کی فضیلت و برتری کا بیان۔
حدیث نمبر: 4132
وَقَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ : حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ ، ثَنَا حَمَّادٌ ، ثَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : النَّاسُ تَبَعٌ لِقُرَيْشٍ ، خِيَارُهُمْ تَبَعٌ لِخِيَارِهِمْ ، وَشِرَارُهُمْ تَبَعٌ لِشِرَارِهِمْ .ترجمہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”لوگ (امامت و سیادت میں) قریش کے تابع ہیں، ان کے بہترین اور صالح لوگ قریش کے بہترین لوگوں کے نقشِ قدم پر چلنے والے ہیں اور ان کے بدکار لوگ قریش کے بدترین لوگوں کے نقشِ قدم پر چلنے والے ہیں۔“
اس حدیث کی سند میں علی بن زید بن جدعان راوی اگرچہ ضعیف ہے لیکن اس کا مفہوم صحیحین کی ان مستند روایات سے ثابت ہے جن میں لوگوں کے قریش کے تابع ہونے کا تذکرہ موجود ہے۔