المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب المناقب— مناقب و فضائل کا بیان۔
بَابُ فَضْلِ قريش باب: قریش کی فضیلت و برتری کا بیان۔
حدیث نمبر: 4131
وَقَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ : حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ ، ثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اطْلُبُوا الْقُوَّةَ وَالْأَمَانَةَ فِي الْأَئِمَّةِ مِنْ قُرَيْشٍ ، فَإِنَّ قَوِيَّ قُرَيْشٍ لَهُ فَضْلَانِ عَلَى أَقَوَى مَنْ سِوَاهُمْ ، وَإِنَّ أَمِينَ قُرَيْشٍ لَهُ فَضْلَانِ عَلَى أَمِينِ مَنْ سِوَاهُمْ .
4131 \ 2 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُمَرَ الْوَكِيعِيُّ ، ثَنَا مُؤَمَّلٌ ، ثَنَا حَمَّادٌ بِهِ .ترجمہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تم قریش سے تعلق رکھنے والے ائمہ و حکمرانوں میں قوت و صلاحیت اور دیانت داری تلاش کیا کرو، کیونکہ قریش کا طاقتور فرد دیگر قبائل کے طاقتور ترین افراد پر دو گنا فضیلت رکھتا ہے، اور قریش کا امانت دار شخص دوسروں کے امانت دار افراد پر دو گنا برتری کا حامل ہوتا ہے۔“
اور امام ابو یعلیٰ نے بھی اپنی سند میں احمد بن عمر الوکیعی، مؤمل اور حماد کے واسطے سے اسی طرح روایت کیا ہے۔