المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب المناقب— مناقب و فضائل کا بیان۔
بَابُ فَضْلِ قريش باب: قریش کی فضیلت و برتری کا بیان۔
حدیث نمبر: 4130
حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي الْأَسْوَدِ ، ثَنَا مُجَالِدٌ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، حَدَّثَنِي مَعْمَرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نَضْلَةَ ، قَالَ : قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ : انْظُرُوا قُرَيْشًا ، فَاسْمَعُوا قَوْلَهُمْ وَدَعُوا فِعْلَهُمْ .ترجمہ
سیدنا معمر بن عبداللہ بن نضلہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ کی بارگاہِ اقدس میں حاضر ہوا تو میں نے آپ ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا: ”قریش کے معاملے پر نظر رکھو، پس ان کی بات (توجہ سے) سنو لیکن ان کے (ناپسندیدہ) افعال کو ترک کر دو۔“
اس حدیث کو امام احمد نے مسند احمد (حدیث: 15152) میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں مجالد بن سعید نامی راوی ہیں جن کے حافظے کی بنا پر محدثین نے انہیں ضعیف قرار دیا ہے، تاہم دیگر شواہد کی بنا پر اس کے معنی پر کلام کیا جاتا ہے۔