المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب المناقب— مناقب و فضائل کا بیان۔
بَابُ فَضْلِ قريش باب: قریش کی فضیلت و برتری کا بیان۔
وَقَالَ الطَّيَالِسِيُّ : حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ حُمَيْدٍ الْكِنْدِيِّ أَوِ الْعَبْدِيِّ ، عَنْ أَبِي الْجَارُودِ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا تَسُبُّوا قُرَيْشًا ، فَإِنَّ عِلْمَ عَالِمِهَا يَمْلَأُ الْأَرْضَ عِلْمًا ، اللَّهُمَّ إِنَّكَ أَذَقْتَ أَوَّلَ قُرَيْشٍ نَكَالًا عِقَابًا أَوْ وَبَالًا ، فَأَذِقْ آخِرَهَا نَوَالًا .سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تم قریش کو گالی مت دو اور نہ ہی انہیں برا بھلا کہو، کیونکہ ان کے ایک عالم کا علم روئے زمین کو علم و فضل سے بھر دے گا۔“ پھر آپ ﷺ نے بارگاہِ الٰہی میں التجا کی: «اللَّهُمَّ إِنَّكَ أَذَقْتَ أَوَّلَ قُرَيْشٍ نَكَالًا عِقَابًا أَوْ وَبَالًا ، فَأَذِقْ آخِرَهَا نَوَالًا» یعنی ”اے اللہ! تو نے قریش کے ابتدائی لوگوں کو (ان کی سرکشی پر) عبرت ناک عذاب یا وبال کا مزہ چکھایا ہے، پس اب ان کے بعد والے لوگوں کو اپنی عطا و بخشش اور انعام و اکرام سے نواز دے۔“
اس حدیث کو امام ابوداؤد طیالسی نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، تاہم اس کی سند میں نضر بن حمید اور ابوالجارود کے ضعف کی وجہ سے یہ روایت سندی اعتبار سے کلام سے خالی نہیں ہے۔