المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الصلاة— نماز کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الْأَمْرِ بِاتِّبَاعِ الْإِمَامِ فِي أَفْعَالِهِ باب: نماز کے افعال میں امام کی پیروی کا حکم۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبَصْرِيُّ أَبُو سَعِيدٍ ، ثَنَا إِبْرَاهِيمُ - يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ - عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : " إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا انْتَهَى [إِلَى] عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَهُوَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ أَرَادَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ أَنْ يَتَأَخَّرَ ، فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "أَنْ مَكَانَكَ" ، فَصَلَّى وَصَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِصَلَاةِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ .سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لائے اور وہ اس وقت لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے تو عبدالرحمن رضی اللہ عنہ نے (امامت کے مقام سے) پیچھے ہٹنے کا ارادہ کیا، مگر نبی کریم ﷺ نے انہیں اشارہ فرمایا کہ ”تم اپنی جگہ پر ہی رہو“، چنانچہ انہوں نے نماز پڑھائی اور رسول اللہ ﷺ نے سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی اقتدا میں نماز ادا فرمائی۔
اس حدیث کو امام ابو یعلیٰ موصلی نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے اور اس کی اصل صحیح مسلم میں بھی موجود ہے؛ یہ واقعہ غزوۂ تبوک کا ہے جو نبی کریم ﷺ کی اپنے کسی صحابی کے پیچھے نماز پڑھنے کی ایک مستند اور عظیم الشان مثال ہے۔