المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب المناقب— مناقب و فضائل کا بیان۔
بَابُ فَضْلِ قريش باب: قریش کی فضیلت و برتری کا بیان۔
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، ثَنَا طَلْحَةُ ، هُوَ ابْنُ عَمْرٍو ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .. فَذَكَرَ حَدِيثًا . وَفِيهِ : وَلَوْلَا أَنْ تَبْطَرَ قُرَيْشٌ لَأَخْبَرْتُهَا بِالَّذِي لَهَا عِنْدَ اللهِ - عَزَّ وَجَلَّ - اللَّهُمَّ إِنَّكَ أَذَقْتَ أَوَّلَهَا نَكَالًا ، فَأَذِقْ آخِرَهَا نَوَالًا .
4128 \ 2 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خِدَاشٍ ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، ثَنَا طَلْحَةُ بِهَذَا .سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک طویل حدیث بیان فرمائی جس میں یہ الفاظ بھی تھے: ”اور اگر مجھے یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ قریش (اپنے فضائل سن کر) فخر و غرور کی وجہ سے اترانے لگیں گے، تو میں انہیں اس اجر و مرتبے کی ضرور خبر دے دیتا جو اللہ عزوجل کے ہاں ان کے لیے مقدر ہے؛ «اللَّهُمَّ إِنَّكَ أَذَقْتَ أَوَّلَهَا نَكَالًا ، فَأَذِقْ آخِرَهَا نَوَالًا» ”اے اللہ! تو نے ان کے ابتدائی لوگوں کو (کفر کی بنا پر) عبرت ناک سزا کا مزہ چکھایا ہے، اب ان کے بعد میں آنے والوں کو (اسلام کی بدولت) اپنی نعمت و عطا کا ذائقہ نصیب فرما۔“
امام ابو یعلیٰ نے بھی اپنی سند کے ساتھ اسی طرح اس روایت کو نقل کیا ہے۔