المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب المناقب— مناقب و فضائل کا بیان۔
ذِكْرِ أم أيمن رضي اللَّهُ عنها باب: سیدہ ام ایمن رضی اللہ عنہا کا بیان۔
قَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، ثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الْقَاسِمِ قَالَ : خَرَجَتْ أُمُّ أَيْمَنَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهَا - مُهَاجِرَةً إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَكَّةَ إِلَى الْمَدِينَةِ وَهِيَ مَاشِيَةٌ لَيْسَ مَعَهَا زَادٌ ، وَهِيَ صَائِمَةٌ فِي يَوْمٍ شَدِيدِ الْحَرِّ ، فَأَصَابَهَا عَطَشٌ شَدِيدٌ حَتَّى كَادَتْ تَمُوتُ مِنْ شِدَّةِ الْعَطَشِ ، قَالَتْ : فَلَمَّا غَابَتِ الشَّمْسُ إِذَا أَنَا بِخَفِيقِ شَيْءٍ فَوْقَ رَأْسِي ، فَرَفَعْتُ رَأْسِي فَإِذْ أَنَا بِدَلْوٍ مِنْ مَاءٍ بِرِشَاءٍ أَبْيَضَ ، فَدَنَا مِنِّي حَتَّى إِذَا كَانَ مِنِّي حَيْثُ أَسَتَمْكِنُ تَنَاوَلْتُهُ فَشَرِبْتُ مِنْهُ حَتَّى رَوِيتُ ، لَقَدْ كُنْتُ أَصُومُ بَعْدَ ذَلِكَ فِي الْيَوْمِ الْحَارِّ ثُمَّ أَطُوفُ فِي الشَّمْسِ كَيْ أَعْطَشَ فَمَا عَطِشْتُ بَعْدَهَا .عثمان بن القاسم سے روایت ہے کہ سیدہ امِ ایمن رضی اللہ عنہا مکہ سے مدینہ کی طرف رسول اللہ ﷺ کی جانب ہجرت کے لیے روانہ ہوئیں، وہ پیدل چل رہی تھیں اور ان کے پاس سفر کا کوئی توشہ نہ تھا جبکہ وہ سخت تپش والے دن روزے کی حالت میں تھیں۔ سفر کے دوران انہیں اس قدر شدید پیاس لگی کہ پیاس کی شدت سے ان کی جان نکلنے کے قریب ہو گئی۔ وہ بیان کرتی ہیں: ”پھر جب سورج غروب ہو گیا تو اچانک میں نے اپنے سر کے اوپر کسی چیز کی سرسراہٹ یا حرکت کی آواز سنی، میں نے اپنا سر اٹھایا تو کیا دیکھتی ہوں کہ پانی کا ایک ڈول ہے جو سفید رسی سے لٹکا ہوا ہے، وہ میرے قریب ہوا یہاں تک کہ جب وہ اتنے فاصلے پر آ گیا کہ میں اسے آسانی سے تھام سکوں تو میں نے اسے پکڑ لیا اور اس سے اتنا پانی پیا کہ خوب سیراب ہو گئی۔ اس واقعے کے بعد میرا یہ حال تھا کہ میں سخت گرمی کے دنوں میں روزہ رکھتی تھی اور پھر جان بوجھ کر تپتی دھوپ میں چلتی پھرتی تھی تاکہ مجھے پیاس لگے، لیکن اس پیالے کے پینے کے بعد مجھے پھر کبھی پیاس محسوس نہیں ہوئی۔“
اسے امام احمد بن منیع نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے اور اس کی سند حسن ہے۔