المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب المناقب— مناقب و فضائل کا بیان۔
ذِكْرِ صفية بنت حيي رضي اللَّهُ عنها باب: سیدہ صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو هِشَامٍ مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ رِفَاعَةَ ، ثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُجَمِّعٍ ، حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ كَعْبٍ ، عَنْ رَبِيعٍ ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيٍّ - رَضِيَ اللهُ عَنْهَا - قَالَتْ : أَرْدَفَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى عَجُزِ نَاقَتِهِ ، قَالَتْ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا : فَجَعَلْتُ أَنْعَسُ ، فَيَمَسُّنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ وَيَقُولُ : يَا هَذِهِ ، يَا بِنْتَ حُيَيٍّ ، وَجَعَلَ يَقُولُ : يَا صَفِيَّةُ ، إِنِّي أَعْتَذِرُ إِلَيْكِ مِمَّا صَنَعْتُ بِقَوْمِكِ ، إِنَّهُمْ قَالُوا لِي كَذَا ، إِنَّهُمْ قَالُوا لِي كَذَا .
4122 \ 2 - حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، ثَنَا يُونُسُ ، بِهِ .
وَقَالَ : حَدَّثَنِي رَبِيعٌ - رَجُلٌ مِنْ بَنِي النَّضِيرِ وَكَانَ فِي حَيٍّ صَفِيَّةَ - عَنْ صَفِيَّةَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهَا - قَالَتْ : مَا رَأَيْتُ قَطُّ أَحْسَنَ خُلُقًا مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .. فَذَكَرَ نَحْوَهُ .سیدہ صفیہ بنت حُيَی رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے بیان فرمایا: رسول اللہ ﷺ نے مجھے اپنی اونٹنی کے پچھلے حصے پر اپنے پیچھے سوار فرمایا، وہ کہتی ہیں کہ مجھ پر نیند کا غلبہ ہونے لگا (اور میں اونگھنے لگی) تو رسول اللہ ﷺ مجھے اپنے دستِ مبارک سے چھوتے (تاکہ میں بیدار ہو جاؤں) اور فرماتے: ”اے خاتون! اے حُيَی کی بیٹی!“ اور آپ ﷺ مسلسل یہ فرماتے رہے: ”اے صفیہ! میں تم سے ان اقدامات کی بابت معذرت کرتا ہوں جو میں نے تمہاری قوم کے ساتھ کیے، کیونکہ انہوں نے میرے بارے میں ایسی ایسی (سخت اور معاندانہ) باتیں کہی تھیں، یقیناً انہوں نے میرے خلاف ایسا ایسا کہا تھا۔“
اس حدیث کی دوسری سند ابن نمیر سے مروی ہے جس میں ربیع نامی راوی (جو بنو نضیر کا ایک شخص تھا اور سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کی بستی میں رہتا تھا) سے روایت ہے کہ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”میں نے رسول اللہ ﷺ سے بڑھ کر حسین اخلاق کا حامل کسی کو نہیں دیکھا۔“ پھر راوی نے مذکورہ بالا روایت کے ہم معنی واقعہ بیان کیا۔