المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب المناقب— مناقب و فضائل کا بیان۔
ذِكْرِ صفية بنت حيي رضي اللَّهُ عنها باب: سیدہ صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا کا بیان۔
حدیث نمبر: 4121
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، هُوَ ابْنُ الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، يَعْنِي ابْنَ هِلَالٍ ، قَالَ : إِنَّ صَفِيَّةَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهَا - قَالَتِ : انْتَهَيْتُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا مِنَ النَّاسِ أَحَدٌ أَكْرَهَ إِلَيَّ مِنْهُ ، فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ قَوْمَكِ صَنَعُوا كَذَا وَكَذَا ، قَالَتْ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا : فَمَا قُمْتُ مِنْ مَقْعَدِي ، وَمِنَ النَّاسِ أَحَدٌ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْهُ .ترجمہ
سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے بیان فرمایا: ”میں رسول اللہ ﷺ کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوئی تو اس وقت تمام لوگوں میں آپ ﷺ کی ذاتِ گرامی سے بڑھ کر میرے لیے کوئی دوسرا ناپسندیدہ نہ تھا، تب آپ ﷺ نے (حقیقتِ حال واضح کرتے ہوئے) ارشاد فرمایا: ”یقیناً تمہاری قوم نے ایسا ایسا (معاملہ) کیا تھا۔“ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ”پھر میں اپنی اس نشست سے ابھی اٹھی بھی نہ تھی کہ میرے نزدیک تمام لوگوں میں آپ ﷺ کی ذاتِ مبارکہ سب سے زیادہ محبوب و پسندیدہ ہو چکی تھی۔““
اسے امام ابو یعلیٰ نے اپنی مسند (4121) میں روایت کیا ہے اور اس کی سند صحیح ہے۔