المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب المناقب— مناقب و فضائل کا بیان۔
ذِكْرِ صفية بنت حيي رضي اللَّهُ عنها باب: سیدہ صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا کا بیان۔
قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْجُشَمِيُّ ، حَدَّثَتْنَا عُلَيْلَةُ بِنْتُ الْكُمَيْتِ ، قَالَتْ : سَمِعْتُ أُمِّي أُمَيْنَةَ ، تَقُولُ : حَدَّثَتْنِي أَمَةُ اللهِ بِنْتُ رَزِينَةَ ، عَنْ أُمِّهَا رَزِينَةَ مَوْلَاةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهَا - قَالَتْ : إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبَى صَفِيَّةَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهَا - يَوْمَ قُرَيْظَةَ وَالنَّضِيرِ ، يَوْمَ فَتَحَ اللهُ - عَزَّ وَجَلَّ - عَلَيْهِ ، فَجَاءَ يَقُودُهَا مَسْبِيَّةً ، فَلَمَّا رَأَتِ النِّسَاءَ ، قَالَتْ : أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ ، وَأَنَّكَ رَسُولُ اللهِ ، فَأَرْسَلَهَا ، فَكَانَ ذِرَاعُهَا - رَضِيَ اللهُ عَنْهَا - فِي يَدِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ أَعْتَقَهَا ، ثُمَّ خَطَبَهَا وَتَزَوَّجَهَا ، وَأَمْهَرَهَا رَزِينَةَ .
قُلْتُ : حَدِيثٌ مُنْكَرٌ ، عَنْ نِسْوَةٍ مَجْهُولَاتٍ ، وَالَّذِي فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : أَنَّهُ جَعَلَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِتْقَهَا صَدَاقَهَا ، وَكَذَا تَقَدَّمَ عَنْهَا نَفْسِهَا - رَضِيَ اللهُ عَنْهَا - فِي كِتَابِ النِّكَاحِ .رسول اللہ ﷺ کی آزاد کردہ لونڈی سیدہ رزینہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بنو قریظہ اور بنو نضیر کی فتح کے دن، جب اللہ عزوجل نے آپ ﷺ کو غلبہ عطا فرمایا، سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کو جنگی قیدی بنایا۔ آپ ﷺ انہیں قید کی حالت میں (اپنے ساتھ) لے کر آ رہے تھے، پھر جب انہوں نے دیگر خواتین کو دیکھا تو کہنے لگیں: «أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ ، وَأَنَّكَ رَسُولُ اللهِ» ”میں گواہی دیتی ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں اور بے شک آپ اللہ کے رسول ہیں۔“ تو آپ ﷺ نے انہیں چھوڑ دیا، اس وقت ان کا بازو نبی کریم ﷺ کے دستِ مبارک میں تھا۔ پھر آپ ﷺ نے انہیں آزاد فرمایا، نکاح کا پیغام دیا اور ان سے شادی کر لی، اور سیدہ رزینہ رضی اللہ عنہا کو بطورِ مہر انہیں عطا فرما دیا۔
میں کہتا ہوں: یہ حدیث منکر ہے کیونکہ یہ مجہول (نامعلوم) خواتین کی سند سے مروی ہے، جبکہ صحیح روایت وہی ہے جو سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ان کی آزادی کو ہی ان کا حقِ مہر قرار دیا تھا، اور اسی طرح خود سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا سے بھی کتاب النکاح میں یہی بات پہلے گزر چکی ہے۔