❮
❯
حدیث نمبر: 4120
قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْجُشَمِيُّ ، حَدَّثَتْنَا عُلَيْلَةُ بِنْتُ الْكُمَيْتِ ، قَالَتْ : سَمِعْتُ أُمِّي أُمَيْنَةَ ، تَقُولُ : حَدَّثَتْنِي أَمَةُ اللهِ بِنْتُ رَزِينَةَ ، عَنْ أُمِّهَا رَزِينَةَ مَوْلَاةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهَا - قَالَتْ : إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبَى صَفِيَّةَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهَا - يَوْمَ قُرَيْظَةَ وَالنَّضِيرِ ، يَوْمَ فَتَحَ اللهُ - عَزَّ وَجَلَّ - عَلَيْهِ ، فَجَاءَ يَقُودُهَا مَسْبِيَّةً ، فَلَمَّا رَأَتِ النِّسَاءَ ، قَالَتْ : أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ ، وَأَنَّكَ رَسُولُ اللهِ ، فَأَرْسَلَهَا ، فَكَانَ ذِرَاعُهَا - رَضِيَ اللهُ عَنْهَا - فِي يَدِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ أَعْتَقَهَا ، ثُمَّ خَطَبَهَا وَتَزَوَّجَهَا ، وَأَمْهَرَهَا رَزِينَةَ .
قُلْتُ : حَدِيثٌ مُنْكَرٌ ، عَنْ نِسْوَةٍ مَجْهُولَاتٍ ، وَالَّذِي فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : أَنَّهُ جَعَلَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِتْقَهَا صَدَاقَهَا ، وَكَذَا تَقَدَّمَ عَنْهَا نَفْسِهَا - رَضِيَ اللهُ عَنْهَا - فِي كِتَابِ النِّكَاحِ .
ترجمہ

رسول اللہ ﷺ کی آزاد کردہ لونڈی سیدہ رزینہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بنو قریظہ اور بنو نضیر کی فتح کے دن، جب اللہ عزوجل نے آپ ﷺ کو غلبہ عطا فرمایا، سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کو جنگی قیدی بنایا۔ آپ ﷺ انہیں قید کی حالت میں (اپنے ساتھ) لے کر آ رہے تھے، پھر جب انہوں نے دیگر خواتین کو دیکھا تو کہنے لگیں: «أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ ، وَأَنَّكَ رَسُولُ اللهِ» ”میں گواہی دیتی ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں اور بے شک آپ اللہ کے رسول ہیں۔“ تو آپ ﷺ نے انہیں چھوڑ دیا، اس وقت ان کا بازو نبی کریم ﷺ کے دستِ مبارک میں تھا۔ پھر آپ ﷺ نے انہیں آزاد فرمایا، نکاح کا پیغام دیا اور ان سے شادی کر لی، اور سیدہ رزینہ رضی اللہ عنہا کو بطورِ مہر انہیں عطا فرما دیا۔
میں کہتا ہوں: یہ حدیث منکر ہے کیونکہ یہ مجہول (نامعلوم) خواتین کی سند سے مروی ہے، جبکہ صحیح روایت وہی ہے جو سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ان کی آزادی کو ہی ان کا حقِ مہر قرار دیا تھا، اور اسی طرح خود سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا سے بھی کتاب النکاح میں یہی بات پہلے گزر چکی ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب المناقب / حدیث: 4120
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :قال ابن حجر: حَدِيثٌ مُنْكَرٌ ، عَنْ نِسْوَةٍ مَجْهُولَاتٍ ، وَالَّذِي فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : أَنَّهُ جَعَلَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِتْقَهَا صَدَاقَهَا ، وَكَذَا تَقَدَّمَ عَنْهَا نَفْسِهَا - رَضِيَ اللهُ عَنْهَا - فِي كِتَابِ النِّكَاحِ . »
«أخرجه السنن الكبرى للبيهقي برقم: 13858، وأخرجه مسند أبي يعلى برقم: 7161، وأخرجه المعجم الكبير للطبراني برقم: 705»