المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب المناقب— مناقب و فضائل کا بیان۔
فَضْلِ صفية بنت عبد المطلب رضي اللَّهُ عنها باب: سیدہ صفیہ بنت عبد المطلب رضی اللہ عنہا کی فضیلت کا بیان۔
قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ ، هُوَ ابْنُ زَبَالَةَ ، حَدَّثَتْنِي أُمُّ عُرْوَةَ ، هِيَ بِنْتُ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ أَبِيهَا ، عَنْ جَدِّهَا الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - قَالَ : لَمَّا خَلَّفَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِسَاءَهُ يَوْمَ أُحُدٍ بِالْمَدِينَةِ ، خَلَّفَهُنَّ فِي فَارِعٍ ، وَفِيهِنَّ صَفِيَّةُ بِنْتُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ - رَضِيَ اللهُ عَنْهَا - وَخَلَّفَ فِيهِنَّ حَسَّانَ بْنَ ثَابِتٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَأَقْبَلَ رَجُلٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ لِيَدْخُلَ عَلَيْهِنَّ ، فَقَالَتْ صَفِيَّةُ - رَضِيَ اللهُ عَنْهَا - لِحَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : دُونَكَ الرَّجُلَ ، فَجَبُنَ حَسَّانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَأَبَى عَلَيْهَا ، فَتَنَاوَلَتْ صَفِيَّةُ - رَضِيَ اللهُ عَنْهَا - السَّيْفَ فَضَرَبَتْ بِهِ الْمُشْرِكَ حَتَّى قَتَلَتْهُ ، فَأُخْبِرَ بِذَلِكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَضَرَبَ لِصَفِيَّةَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهَا - بِسَهْمٍ كَمَا ضَرَبَ لِلرِّجَالِ .
4113 \ 2 - تَابَعَ ابْنُ زَبَالَةَ عَلَيْهِ إِسْحَاقَ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي فَرْوَةَ ، وَهُوَ مِنْ رِجَالِ الْبُخَارِيِّ ، فَرَوَاهُ عَنْ أُمِّ عُرْوَةَ ، أَخْرَجَهُ الْبَزَّارُ مِنْ طَرِيقِهِ ، وَسِيَاقُهُ أَتَمُّ .سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ نے غزوہ احد کے دن اپنی مستورات کو مدینہ منورہ میں ”فارع“ نامی بلند قلعے میں چھوڑا، تو ان خواتین میں سیدہ صفیہ بنت عبد المطلب رضی اللہ عنہا بھی شامل تھیں، اور آپ ﷺ نے ان کی نگرانی کے لیے سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کو بھی پیچھے ٹھہرایا تھا۔ اسی دوران مشرکین میں سے ایک شخص ان کے پاس داخل ہونے کے ارادے سے آگے بڑھا، تو سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا نے سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ سے کہا: ”تم اس شخص کا مقابلہ کرو“، لیکن سیدنا حسان رضی اللہ عنہ پر بزدلی غالب آ گئی اور انہوں نے سیدہ کے کہنے پر کارروائی کرنے سے انکار کر دیا۔ پس سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا نے خود تلوار پکڑی اور اس مشرک پر ایسی ضرب لگائی کہ اسے موت کے گھاٹ اتار دیا، جب رسول اللہ ﷺ کو اس واقعے کی اطلاع دی گئی تو آپ ﷺ نے سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کے لیے غنیمت میں سے اسی طرح حصہ مقرر فرمایا جس طرح آپ ﷺ نے مردوں کے لیے حصے مقرر فرمائے تھے۔
اس روایت میں ابن زبالہ کی متابعت اسحاق بن محمد بن ابی فروہ نے کی ہے، اور وہ امام بخاری کے رجال میں سے ہیں، انہوں نے اسے ام عروہ سے روایت کیا ہے، نیز امام بزار نے اسے اپنی سند سے روایت کیا ہے اور ان کا بیان کردہ متن زیادہ جامع اور مکمل ہے۔