❮
❯
حدیث نمبر: 4112
قَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، ثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، ثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْأَصَمِّ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ ، قَالَ : ثَقُلَتْ مَيْمُونَةُ - رَضِيَ اللهُ عَنْهَا - بِمَكَّةَ ، وَلَيْسَ عِنْدَهَا مِنْ بَنِي أُخْتِهَا أَحَدٌ ، فَقَالَتْ : أَخْرِجُونِي مِنْ مَكَّةَ ، فَإِنِّي لَا أَمُوتُ بِهَا ، أَخْبَرَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِّي لَا أَمُوتُ بِهَا ، حَتَّى أَتَوْا بِهَا سَرِفَ إِلَى الشَّجَرَةِ الَّتِي بَنَى بِهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَحْتَهَا فِي مَوْضِعِ الْقُبَّةِ فَمَاتَتْ ، فَلَمَّا وَضَعْنَاهَا فِي لَحْدِهَا ، أَخَذْتُ رِدَائِي فَوَضَعْتُهُ تَحْتَ خَدِّهَا فِي اللَّحْدِ ، فَأَخَذَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - فَرَمَى بِهِ .
ترجمہ

یزید بن الاصم سے روایت ہے کہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا مکہ مکرمہ میں شدید علیل ہو گئیں جبکہ ان کے بھانجوں میں سے کوئی بھی اس وقت ان کے پاس موجود نہ تھا، تو انہوں نے فرمایا: ”مجھے مکہ سے باہر لے چلو کیونکہ میں یہاں فوت نہیں ہوں گی، رسول اللہ ﷺ نے مجھے خبر دی تھی کہ میری موت مکہ میں نہیں ہوگی“، چنانچہ لوگ انہیں لے کر مقامِ 'سرف' میں اس درخت کے پاس پہنچے جہاں رسول اللہ ﷺ نے ان کے ساتھ خلوت اختیار فرمائی تھی اور جس جگہ (رخصتی کے وقت) خیمہ لگایا گیا تھا، وہیں ان کا انتقال ہو گیا؛ راوی کہتے ہیں کہ جب ہم نے انہیں لحد میں اتارا تو میں نے اپنی چادر لے کر اسے قبر میں ان کے رخسار کے نیچے رکھ دیا، مگر سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے اسے پکڑا اور باہر پھینک دیا۔
امام ابوبکر بن ابی شیبہ رحمہ اللہ نے اسے سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے فضائل و مناقب کے باب میں روایت کیا ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب المناقب / حدیث: 4112
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده صحيح »
«أخرجه صحيح مسلم برقم: 1411، وأخرجه المنتقى لابن الجارود برقم: 490، وأخرجه صحيح ابن حبان برقم: 4134، وأخرجه المستدرك للحاكم برقم: 6884، وأخرجه السنن الكبرى للنسائي برقم: 3219، وأخرجه سنن أبي داود برقم: 1843، وأخرجه جامع الترمذي برقم: 845، وأخرجه مسند الدارمي برقم: 1865، وأخرجه سنن ابن ماجه برقم: 1965، وأخرجه السنن الكبرى للبيهقي برقم: 9251، وأخرجه سنن الدارقطني برقم: 3656، وأخرجه مسند أحمد برقم: 27457، وأخرجه مسند أبي يعلى برقم: 7105، وأخرجه مصنف ابن أبي شيبة برقم: 13128، وأخرجه شرح معاني الآثار للطحاوي برقم: 4218، وأخرجه شرح مشكل الآثار للطحاوي برقم: 5796، وأخرجه المعجم الكبير للطبراني برقم: 1058، وأخرجه المعجم الأوسط للطبراني برقم: 6982»