المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب المناقب— مناقب و فضائل کا بیان۔
فَضْلِ ميمونة رضي اللَّهُ عنها باب: سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت کا بیان۔
قَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، ثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، ثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْأَصَمِّ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ ، قَالَ : ثَقُلَتْ مَيْمُونَةُ - رَضِيَ اللهُ عَنْهَا - بِمَكَّةَ ، وَلَيْسَ عِنْدَهَا مِنْ بَنِي أُخْتِهَا أَحَدٌ ، فَقَالَتْ : أَخْرِجُونِي مِنْ مَكَّةَ ، فَإِنِّي لَا أَمُوتُ بِهَا ، أَخْبَرَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِّي لَا أَمُوتُ بِهَا ، حَتَّى أَتَوْا بِهَا سَرِفَ إِلَى الشَّجَرَةِ الَّتِي بَنَى بِهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَحْتَهَا فِي مَوْضِعِ الْقُبَّةِ فَمَاتَتْ ، فَلَمَّا وَضَعْنَاهَا فِي لَحْدِهَا ، أَخَذْتُ رِدَائِي فَوَضَعْتُهُ تَحْتَ خَدِّهَا فِي اللَّحْدِ ، فَأَخَذَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - فَرَمَى بِهِ .یزید بن الاصم سے روایت ہے کہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا مکہ مکرمہ میں شدید علیل ہو گئیں جبکہ ان کے بھانجوں میں سے کوئی بھی اس وقت ان کے پاس موجود نہ تھا، تو انہوں نے فرمایا: ”مجھے مکہ سے باہر لے چلو کیونکہ میں یہاں فوت نہیں ہوں گی، رسول اللہ ﷺ نے مجھے خبر دی تھی کہ میری موت مکہ میں نہیں ہوگی“، چنانچہ لوگ انہیں لے کر مقامِ 'سرف' میں اس درخت کے پاس پہنچے جہاں رسول اللہ ﷺ نے ان کے ساتھ خلوت اختیار فرمائی تھی اور جس جگہ (رخصتی کے وقت) خیمہ لگایا گیا تھا، وہیں ان کا انتقال ہو گیا؛ راوی کہتے ہیں کہ جب ہم نے انہیں لحد میں اتارا تو میں نے اپنی چادر لے کر اسے قبر میں ان کے رخسار کے نیچے رکھ دیا، مگر سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے اسے پکڑا اور باہر پھینک دیا۔
امام ابوبکر بن ابی شیبہ رحمہ اللہ نے اسے سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے فضائل و مناقب کے باب میں روایت کیا ہے۔