المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب المناقب— مناقب و فضائل کا بیان۔
فَضْلِ عائشة رضي اللَّهُ عنها باب: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْوَلِيدِ ، ثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ ، عَنْ جَدَّتِهِ ، عَنْ عَائِشَةَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهَا - قَالَتْ : أُعْطِيتُ تِسْعًا مَا أُعْطِيَهُنَّ امْرَأَةٌ إِلَّا مَرْيَمُ .. فَذَكَرَ نَحْوَهُ . فَقَالَتْ : وَإِنْ كَانَ الْوَحْيُ يَنْزِلُ عَلَيْهِ وَهُوَ فِي أَهْلِهِ مُتَفَرِّقُونَ عَنْهُ ، وَإِنْ كَانَ لَيَنْزِلُ عَلَيْهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مَعَهُ فِي لِحَافِهِ ، وَإِنِّي لَابْنَةُ خَلِيفَتِهِ وَصِدِّيقِهِ ، لَقَدْ خُلِقْتُ طَيِّبَةً وَعِنْدَ طَيِّبٍ ، وَلَقَدْ وُعِدَتُ مَغْفِرَةً وَرِزْقًا كَرِيمًا .
( 192 ) وَحَدِيثُ ذَكْوَانَ مَوْلَى عَائِشَةَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهَا - فِي قِصَّةِ الدُّرْجِ الَّذِي بَعَثَ بِهِ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَيْهَا لِحُبِّ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِيَّاهَا ، يَأْتِي إِنْ شَاءَ اللهُ تَعَالَى فِي الْفُتُوحِ الْعُمَرِيَّةِ .سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”مجھے نو ایسی خصوصیات و فضائل عطا کیے گئے ہیں جو سیدہ مریم علیہا السلام کے سوا کسی اور عورت کو عطا نہیں کیے گئے۔۔۔“ پھر راوی نے اسی طرح کی حدیث بیان کی۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”رسول اللہ ﷺ پر جب وحی نازل ہوتی تو آپ کے اہلِ خانہ آپ سے الگ ہو جاتے تھے، لیکن میرے ساتھ ایک ہی لحاف میں ہوتے ہوئے بھی آپ ﷺ پر وحی نازل ہو جاتی تھی۔ بلاشبہ میں آپ ﷺ کے خلیفہ اور صدیق کی بیٹی ہوں، مجھے پاکیزہ پیدا کیا گیا اور میں ایک پاکیزہ ہستی کے نکاح میں ہوں، اور مجھ سے مغفرت اور باعزت رزق کا وعدہ کیا گیا ہے۔“
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے آزاد کردہ غلام ذکوان سے مروی قیمتی اشیاء کے ڈبے والی حدیث، جسے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ کی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے محبت کی وجہ سے بھیجا تھا، ان شاء اللہ فتوحاتِ فاروقی کے باب میں آئے گی۔