المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب المناقب— مناقب و فضائل کا بیان۔
فَضْلِ عائشة رضي اللَّهُ عنها باب: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي الضَّحَّاكِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ ، ثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَفْوَانَ ، وَآخَرُ مَعَهُ ، أَنَّهُمَا أَتَيَا عَائِشَةَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهَا - فَقَالَتْ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا : يَا فُلَانُ ، هَلْ سَمِعْتَ حَدِيثَ حَفْصَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا ؟ قَالَ : نَعَمْ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ ، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ صَفْوَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : وَمَا ذَاكَ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ ؟ قَالَتْ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا : فِيَّ تِسْعٌّ لَمْ تَكُنْ فِي أَحَدٍ مِنَ النِّسَاءِ ، إِلَّا مَا آتَى اللهُ - عَزَّ وَجَلَّ - مَرْيَمَ ابْنَةَ عِمْرَانَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهَا - وَاللهِ مَا أَقُولُ هَذَا أَنِّي أَفْتَخِرُ عَلَى أَحَدٍ مِنْ صَوَاحِبَاتِي .
قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ صَفْوَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : وَمَا هُنَّ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ ؟
قَالَتْ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا : نَزَلَ الْمَلَكُ بِصُورَتِي ، وَتَزَوَّجَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِسَبْعِ سِنِينَ ، وَأُهْدِيتُ لَهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِتِسْعٍ ، وَتَزَوَّجَنِي صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكْرًا لَمْ يَشْرَكْهُ فِيَّ أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ ، وَأَتَاهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْوَحْيُ وَأَنَا وَإِيَّاهُ فِي لِحَافٍ وَاحِدٍ ، وَكُنْتُ أَحَبَّ النِّسَاءِ إِلَيْهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَنَزَلَ فِيَّ آيَاتٌ مِنَ الْقُرْآنِ كَادَتِ الْأُمَّةُ أَنْ تَهْلِكَ فِيهِنَّ ، وَرَأَيْتُ جِبْرِيلَ - عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ - وَلَمْ يَرَهُ أَحَدٌ مِنْ نِسَائِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرِي ، وَقُبِضَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِي لَمْ يَكُنْ أَحَدٌ غَيْرَ الْمَلَكِ وَأَنَا .سیدنا عبداللہ بن صفوان رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھ ایک دوسرے شخص سے روایت ہے کہ وہ دونوں ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے دریافت فرمایا: ”اے فلاں! کیا تم نے سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کی بیان کردہ حدیث سنی ہے؟“ اس نے عرض کیا: ”جی ہاں! اے ام المومنین۔“ تب عبداللہ بن صفوان رضی اللہ عنہ نے پوچھا: ”اے ام المومنین! وہ بات کیا ہے؟“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”مجھ میں نو ایسی فضیلتیں ہیں جو (میرے عہد کی) عورتوں میں سے کسی کو حاصل نہیں ہوئیں، سوائے ان کمالات کے جو اللہ عزوجل نے مریم بنت عمران رضی اللہ عنہا کو عطا فرمائے تھے؛ اور خدا کی قسم! میں یہ باتیں اپنی کسی سوتن پر فخر و برتری جتانے کے لیے نہیں کہہ رہی۔“
عبداللہ بن صفوان رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: ”اے ام المومنین! وہ نو اوصاف کیا ہیں؟“ سیدہ رضی اللہ عنہا نے بیان فرمایا: ”(پہلا یہ کہ) فرشتہ میری تصویر لے کر نازل ہوا، رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے سات سال کی عمر میں نکاح فرمایا، نو سال کی عمر میں میری رخصتی ہوئی، آپ ﷺ نے میرے سوا کسی کنواری خاتون سے نکاح نہیں فرمایا یعنی اس معاملے میں لوگوں میں سے کوئی آپ ﷺ کا شریک نہیں رہا، آپ ﷺ پر وحی کی کیفیت اس وقت بھی طاری ہو جاتی تھی جب میں اور آپ ﷺ ایک ہی لحاف میں ہوتے تھے، میں آپ ﷺ کو تمام عورتوں سے زیادہ محبوب تھی، میرے متعلق قرآن کی وہ آیات نازل ہوئیں جن کے معاملے میں امت ہلاکت کے قریب پہنچ چکی تھی، میں نے حضرت جبرائیل علیہ السلام کو دیکھا جبکہ آپ ﷺ کی ازواجِ مطہرات میں سے میرے سوا کسی نے انہیں نہیں دیکھا، اور آپ ﷺ کا وصال میرے گھر میں ہوا جبکہ اس وقت میرے اور فرشتے کے علاوہ کوئی دوسرا وہاں موجود نہ تھا۔“