المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب المناقب— مناقب و فضائل کا بیان۔
فَضْلِ أم ورقة رضي اللَّهُ عنها باب: سیدہ ام ورقہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت کا بیان۔
قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ الْمُلَائِيُّ ، ثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ جُمَيْعٍ ، حَدَّثَتْنِي جَدَّتِي ، عَنْ أُمِّ وَرَقَةَ بِنْتِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ الْأَنْصَارِيِّ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَزُورُهَا وَيُسَمِّيهَا الشَّهِيدَةَ ، وَكَانَتْ قَدْ جَمَعَتِ الْقُرْآنَ وَالْحَدِيثَ ، فَقَامَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي النَّاسِ ، فَقَالَ : إِنَّ أُمَّ وَرَقَةَ غَمَّهَا غُلَامُهَا وَجَارِيَتُهَا فَقَتَلَاهَا وَإِنَّهُمَا هَرَبَا ، فَأُتِيَ بِهِمَا ، فَصُلِبَا ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : صَدَقَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَانَ يَقُولُ : انْطَلِقُوا نَزُورُ الشَّهِيدَةَ .
أَخْرَجَ أَبُو دَاوُدَ طَرَفًا مِنْهُ سِوَى مَا ذَكَرْتُ هُنَا .سیدہ ام ورقہ بنت عبداللہ بن الحارث الانصاریہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ان کی زیارت و ملاقات کے لیے تشریف لے جایا کرتے تھے اور انہیں ”الشہیدہ“ (شہید ہونے والی) کے معزز لقب سے پکارتے تھے، انہوں نے قرآن کریم حفظ کرنے کے ساتھ ساتھ احادیثِ نبوی بھی جمع کر رکھی تھیں، پھر (ان کی شہادت کے بعد) سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ لوگوں کے درمیان کھڑے ہوئے اور فرمایا: ”یقیناً ام ورقہ کو ان کے غلام اور لونڈی نے کپڑے سے گلا گھونٹ کر قتل کر دیا ہے اور وہ دونوں فرار ہو گئے ہیں“، چنانچہ ان دونوں مجرموں کو پکڑ کر لایا گیا اور انہیں سولی پر لٹکا دیا گیا، اس موقع پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”رسول اللہ ﷺ نے سچ فرمایا تھا، آپ ﷺ (ہم سے) اکثر فرمایا کرتے تھے: «انْطَلِقُوا نَزُورُ الشَّهِيدَةَ» ”چلو، ہم اس شہیدہ کی زیارت کرنے چلتے ہیں۔““
امام ابو داؤد نے اس حدیث کا ایک حصہ روایت کیا ہے سوائے اس (تفصیلی) واقعے کے جو میں نے یہاں ذکر کیا ہے۔