المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب المناقب— مناقب و فضائل کا بیان۔
فَضْلِ عائشة رضي اللَّهُ عنها باب: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت کا بیان۔
وَقَالَ الطَّيَالِسِيُّ : حَدَّثَنَا زَمْعَةُ ، هُوَ ابْنُ صَالِحٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي مُلَيْكَةَ ، يَقُولُ : سَمِعَتْ أُمُّ سَلَمَةَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهَا - الصَّرْخَةَ عَلَى عَائِشَةَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهَا - فَأَرْسَلَتْ جَارِيَتَهَا : انْظُرِي مَا صَنَعَتْ ، فَجَاءَتْ ، فَقَالَتْ : قَدْ قَضَتْ ، فَقَالَتْ : يَرْحَمُهَا اللهُ ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، لَقَدْ كَانَتْ أَحَبَّ النَّاسِ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا أَبَاهَا .سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی (وفات پر) چیخ و پکار کی آواز سنی تو اپنی لونڈی کو یہ دریافت کرنے کے لیے بھیجا: ”دیکھو تو سہی انہیں کیا ہوا ہے؟“ وہ واپس آئی اور بتایا: ”وہ انتقال کر گئی ہیں“، اس پر انہوں نے فرمایا: «يَرْحَمُهَا اللهُ» ”اللہ ان پر رحم فرمائے، اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے! وہ رسول اللہ ﷺ کو تمام لوگوں میں سب سے زیادہ محبوب تھیں، سوائے اپنے والد کے۔“
مسند الطیالسی: 1618؛ اس کی سند میں موجود راوی زمعہ بن صالح ضعیف ہے، لیکن سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے سب سے زیادہ محبوب ہونے کا مضمون دیگر صحیح احادیث سے ثابت ہے۔