المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب المناقب— مناقب و فضائل کا بیان۔
فَضْلِ عائشة رضي اللَّهُ عنها باب: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 4104
وَقَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ : قَرَأْتُ عَلَى أَبِي ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنْ هَارُونَ الْبَرْبَرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ قَالَ : قَدِمَ رَجُلٌ بَعْدَ وَفَاةِ عَائِشَةَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهَا - فَسَأَلَهُ عُبَيْدُ بْنُ عُمَيْرٍ : كَيْفَ رَأَيْتَ وَجْدَ النَّاسِ عَلَيْهَا ؟ قَالَ : وَاللهِ مَا اشْتَدَّ وَجْدُهُمْ كُلَّ ذَاكَ . قَالَ عُبَيْدُ بْنُ عُمَيْرٍ : إِنَّمَا يَحْزَنُ عَلَى عَائِشَةَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهَا - مَنْ كَانَتْ لَهُ أُمًّا .ترجمہ
عبداللہ بن عبید بن عمیر سے روایت ہے کہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی وفاتِ حسرت آیات کے بعد ایک شخص حاضر ہوا تو عبید بن عمیر نے اس سے استفسار کیا کہ ”آپ نے ان کی وفات پر لوگوں کے رنج و ملال اور دلی دکھ کی کیا کیفیت دیکھی؟“ اس شخص نے جواب دیا کہ ”اللہ کی قسم! ان کا غم اس قدر زیادہ شدید نہیں تھا۔“ یہ سن کر عبید بن عمیر نے (حکیمانہ تبصرہ کرتے ہوئے) فرمایا: ”سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی وفات پر تو درحقیقت وہی شخص رنجیدہ اور غمگین ہو گا جس کے لیے وہ ماں (کی حیثیت رکھتی) تھیں۔“
[فضائل الصحابة لإمام أحمد: 1618، إسناده حسن]۔