❮
❯
حدیث نمبر: 4101
وَقَالَ الطَّيَالِسِيُّ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَمَّنْ سَمِعَ عَمَّارًا - وَذَكَرَ رَجُلٌ عِنْدَهُ عَائِشَةَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهَا - فَنَالَ مِنْهَا - فَقَالَ عَمَّارٌ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : اسْكُتْ مَقْبُوحًا مَنْبُوحًا ، أَتُؤْذِي حَبِيبَةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ؟
ترجمہ

سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے ان کی موجودگی میں ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا تذکرہ کیا اور ان کی شان میں گستاخی و عیب جوئی کی، تو سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے اسے سخت ڈانٹ پلاتے ہوئے فرمایا: «اسْكُتْ مَقْبُوحًا مَنْبُوحًا» ”خاموش ہو جا اے بد صورت اور دھتکارے ہوئے شخص! کیا تو رسول اللہ ﷺ کی محبوبہ کو اذیت پہنچاتا ہے؟“
اس روایت کو امام طیالسی نے اپنی مسند میں نقل کیا ہے، اگرچہ اس کی سند میں ایک راوی مبہم ہے لیکن سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے دفاع میں یہ موقف دیگر صحیح روایات سے بھی ثابت ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب المناقب / حدیث: 4101
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف »
«أخرجه المستدرك للحاكم برقم: 5732، وأخرجه جامع الترمذي برقم: 3888، وأخرجه المعجم الكبير للطبراني برقم: 102»