المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب المناقب— مناقب و فضائل کا بیان۔
فَضْلِ عائشة رضي اللَّهُ عنها باب: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 4100
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي إِسْمَاعِيلَ ، ثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ ، عَنْ ضَمْرَةَ بْنِ حَبِيبٍ ، قَالَ : إِنَّ عَائِشَةَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهَا - ذُكِرَتْ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : دَعُوا عَائِشَةَ ، فَإِنَّهَا صَوَّامَةٌ قَوَّامَةٌ ، زَوْجَتِي فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ .ترجمہ
ضمرہ بن حبیب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کی مجلسِ مبارک میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا تذکرہ کیا گیا تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”عائشہ (کے بارے میں ایسی ویسی باتیں کرنا) چھوڑ دو، کیونکہ وہ کثرت سے روزے رکھنے والی، نہایت کثرت سے (تہجد و نوافل کا) قیام کرنے والی ہیں اور وہ دنیا و آخرت دونوں میں میری زوجہ ہیں۔“
اسے حارث بن ابی اسامہ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں ابوبکر بن ابی مریم ضعیف راوی ہے اور یہ روایت مرسل ہے، تاہم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا جنت میں نبی کریم ﷺ کی زوجہ ہونا دیگر صحیح و مستند شواہد سے ثابت ہے۔