المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب المناقب— مناقب و فضائل کا بیان۔
فَضْلِ عائشة رضي اللَّهُ عنها باب: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، ثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ مُجَالِدٍ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهَا - قَالَتْ : دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَبْكِي ، فَقَالَ : مَا يُبْكِيكِ ؟ قُلْتُ : سَبَّتْنِي فَاطِمَةُ - رَضِيَ اللهُ عَنْهَا - فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا فَاطِمَةُ ، سَبَبْتِ عَائِشَةَ ؟ قَالَتْ : نَعَمْ يَا رَسُولَ اللهِ ، قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَلَيْسَ تُحِبِّينَ مَنْ أُحِبُّ وَتُبْغِضِينَ مَنْ أُبْغِضُ ؟ قَالَتْ : بَلَى ، قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَإِنِّي أُحِبُّ عَائِشَةَ ، فَأَحِبِّيهَا .
قَالَتْ فَاطِمَةُ - رَضِيَ اللهُ عَنْهَا - : لَا نَقُولُ لِعَائِشَةَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهَا - شَيْئًا يُؤْذِيهَا أَبَدًا .سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ میرے پاس تشریف لائے جبکہ میں رو رہی تھی، تو آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”تمہیں کس بات نے رلایا ہے؟“ میں نے عرض کیا: ”فاطمہ رضی اللہ عنہا نے مجھے برا بھلا کہا ہے۔“ تو آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”اے فاطمہ! کیا تم نے عائشہ کو برا بھلا کہا ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: ”جی ہاں، اے اللہ کے رسول ﷺ!“ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”کیا تم اس سے محبت نہیں کرتیں جس سے میں محبت کرتا ہوں اور اس سے بغض نہیں رکھتیں جس سے میں بغض رکھتا ہوں؟“ انہوں نے عرض کیا: ”کیوں نہیں (میں یقیناً ایسا ہی کرتی ہوں)۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو پھر میں عائشہ سے محبت کرتا ہوں، لہٰذا تم بھی اس سے محبت کرو۔“
سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ”ہم عائشہ رضی اللہ عنہا کو کبھی بھی ایسی کوئی بات نہیں کہیں گے جس سے انہیں تکلیف پہنچے۔“