المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب المناقب— مناقب و فضائل کا بیان۔
بَابُ أخبار أبي عثمان النهدي باب: ابو عثمان نہدی کے حالات کا بیان۔
قَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ قَالَ : سَأَلَ صُبَيْحٌ أَبَا عُثْمَانَ النَّهْدِيَّ ، وَأَنَا أَسْمَعُ فَقَالَ لَهُ : هَلْ أَدْرَكْتَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، أَسْلَمْتُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَدَّيْتُ لَهُ ثَلَاثَ صَدَقَاتٍ ، وَلَمْ أَلْقَهُ ، وَغَزَوْتُ عَلَى عَهْدِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عِدَّةَ غَزَوَاتٍ ، شَهِدْتُ فَتْحَ الْقَادِسِيَّةِ ، وَجَلُولَاءَ ، وَنِهَاوَنْدَ ، وَالْيَرْمُوكَ ، وَأَذْرَبِيجَانَ ، وَمِهْرَانَ ، وَرُسْتُمَ ، فَكُنَّا نَأْكُلُ السَّمْنَ وَنَتْرُكُ الْوَدَكَ . قَالَ : فَسَأَلْتُهُ عَنِ الظُّرُوفِ ؟ فَقَالَ : لَمْ يَكُنْ يُسْأَلُ عَنْهَا . يَعْنِي : ظُرُوفَ الْمُشْرِكِينَ .عاصم الاحول سے روایت ہے کہ صبیح نے ابوعثمان النہدی رحمہ اللہ سے پوچھا، جبکہ میں بھی وہاں موجود سن رہا تھا، انہوں نے دریافت کیا: ”کیا آپ نے نبی کریم ﷺ کا مبارک دور پایا ہے؟“ انہوں نے جواب دیا: ”جی ہاں، میں رسول اللہ ﷺ کے مبارک عہد ہی میں اسلام قبول کر چکا تھا اور میں نے آپ ﷺ کے (کارندوں) کو تین مرتبہ اپنے مال کا صدقہ (زکوٰۃ) بھی ادا کیا تھا، تاہم میری نبی کریم ﷺ سے بالمشافہ ملاقات نہ ہو سکی؛ نیز میں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں متعدد غزوات میں شرکت کی، جن میں قادسیہ، جلولاء، نہاونڈ، یرموک، آذربائیجان، مہران اور رستم (کے محاذ) کی فتوحات میں خود موجود تھا۔ (ان فتوحات کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے اتنی خوشحالی عطا فرمائی تھی کہ) ہم خالص گھی کھاتے تھے اور چربی وغیرہ (ناپسندیدگی کی بنا پر) چھوڑ دیا کرتے تھے۔“ راوی کہتے ہیں کہ پھر میں نے ان سے برتنوں کے متعلق (شرعی حکم) دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا: ”اس زمانے میں ان کے بارے میں کوئی سوال نہیں پوچھا جاتا تھا۔“ یعنی ان کی مراد مشرکین کے استعمال شدہ برتنوں کے بارے میں دریافت کرنا تھی۔
اس اثر کی سند صحیح ہے اور یہ مصنف ابن ابی شیبہ میں مذکور ہے۔