المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب المناقب— مناقب و فضائل کا بیان۔
فَضْلِ الأشج أشج عبد القيس واسمه المنذر باب: اشج عبد القیس، جن کا نام منذر تھا، کی فضیلت کا بیان۔
قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صُدْرَانَ أَبُو جَعْفَرٍ ، ثَنَا طَالِبُ بْنُ حُجَيْرٍ الْعَبْدِيُّ ، ثَنَا هُودٌ الْعَصَرِيُّ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : بَيْنَمَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَدِّثُ أَصْحَابَهُ ، إِذْ قَالَ : يَطْلُعُ عَلَيْكُمْ مِنْ هَذَا الْفَجِّ رَكْبٌ مِنْ خَيْرِ أَهْلِ الْمَشْرِقِ ، فَقَامَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَتَوَجَّهَ نَحْوَ ذَلِكَ الْوَجْهِ ، فَلَقِيَ ثَلَاثَةَ عَشَرَ رَاكِبًا ، فَرَحَّبَ بِهِمْ وَقَرَّبَ ، وَقَالَ : مَنِ الْقَوْمُ ؟ قَالُوا : قَوْمٌ مِنْ عَبْدِ الْقَيْسِ ، قَالَ : فَمَا أَقْدَمَكُمْ هَذِهِ الْبِلَادَ ؟ التِّجَارَةُ ؟ قَالُوا : لَا ، قَالَ : فَتَبِيعُونَ سُيُوفَكُمْ هَذِهِ ؟ قَالُوا : لَا ، قَالَ : فَلَعَلَّكُمْ إِنَّمَا قَدِمْتُمْ فِي طَلَبِ هَذَا الرَّجُلِ ؟ قَالُوا : أَجَلْ ، فَمَشَى مَعَهُمْ يُحَدِّثُهُمْ ، حَتَّى نَظَرَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُمْ : هَذَا صَاحِبُكُمُ الَّذِي تَطْلُبُونَ ، فَرَمَى الْقَوْمُ بِأَنْفُسِهِمْ عَنْ رِحَالِهِمْ ، فَمِنْهُمْ مَنْ سَعَى سَعْيًا ، وَمِنْهُمْ مَنْ هَرْوَلَ هَرْوَلَةً ، وَمِنْهُمْ مَنْ مَشَى حَتَّى أَتَوْا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخَذُوا يَدَهُ يُقَبِّلُونَهَا ، وَقَعَدُوا إِلَيْهِ ، وَبَقِيَ الْأَشَجُّ ، وَهُوَ أَصْغَرُ الْقَوْمِ ، فَأَنَاخَ الْإِبِلَ وَعَقَلَهَا ، وَجَمَعَ مَتَاعَ الْقَوْمِ ، ثُمَّ أَقْبَلَ يَمْشِي عَلَى تُؤَدَةٍ ، حَتَّى أَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخَذَ بِيَدِهِ فَقَبَّلَهَا ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فِيكَ خَصْلَتَانِ يُحِبُّهُمَا اللهُ تَعَالَى وَرَسُولُهُ قَالَ : وَمَا هُمَا يَا رَسُولَ اللهِ ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الْأَنَاةُ وَالتُّؤَدَةُ ، قَالَ : أَجَبْلًا جُبِلْتُ عَلَيْهِ ، أَوْ تَخَلُّقًا مِنِّي ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : بَلْ جَبْلٌ ، فَقَالَ : الْحَمْدُ لِلهِ الَّذِي جَبَلَنِي عَلَى مَا يُحِبُّ اللهُ وَرَسُولُهُ .
وَأَقْبَلَ الْقَوْمُ قِبَلَ تَمَرَاتٍ يَأْكُلُونَهَا .. فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي التَّمْرِ الْبَرْنِيِّ .
وَاسْمُ جَدِّ هُودَ مَزِيدَةُ .ہود العصری اپنے دادا مزیدہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے گفتگو فرما رہے تھے کہ اچانک آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تمہارے سامنے اس گھاٹی سے مشرق کے بہترین لوگوں کا ایک سوار قافلہ نمودار ہونے والا ہے۔“ یہ سن کر سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور اس سمت روانہ ہو گئے، وہاں ان کی ملاقات تیرہ سواروں سے ہوئی، انہوں نے انہیں خوش آمدید کہا اور تپاک سے ملے، پھر دریافت کیا: ”تم کون لوگ ہو؟“ انہوں نے جواب دیا: ”ہم قبیلہ عبد القیس کے لوگ ہیں۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: ”تمہیں اس علاقے میں کیا چیز لائی ہے؟ کیا تجارت کی غرض سے آئے ہو؟“ انہوں نے کہا: ”نہیں۔“ پھر پوچھا: ”کیا تم اپنی یہ تلواریں بیچنا چاہتے ہو؟“ انہوں نے جواب دیا: ”نہیں۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”شاید تم صرف اس ہستی (رسول اللہ ﷺ) کی طلب میں آئے ہو؟“ انہوں نے عرض کیا: ”جی ہاں۔“ پس سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ان کے ساتھ باتیں کرتے ہوئے چلنے لگے یہاں تک کہ جب نبی کریم ﷺ نظر آئے تو ان سے کہا: ”یہ تمہارے وہی صاحب ہیں جن کی تمہیں تلاش ہے۔“ یہ سنتے ہی وہ لوگ اپنی سواریوں سے نیچے کود پڑے، ان میں سے کوئی دوڑا، کوئی لپکا اور کوئی چل کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، وہ آپ ﷺ کا دستِ مبارک پکڑ کر چومنے لگے اور آپ ﷺ کے پاس بیٹھ گئے۔ البتہ اشج (عبد القیس) پیچھے رہ گئے، وہ ان میں سب سے کم عمر تھے، انہوں نے پہلے اونٹوں کو بٹھایا، ان کی عقال باندھی، سب کا سامان اکٹھا کیا اور پھر نہایت سنجیدگی و متانت کے ساتھ چلتے ہوئے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ ﷺ کا دستِ مبارک تھام کر بوسہ دیا۔ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تمہارے اندر دو ایسی خصلتیں ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول پسند فرماتے ہیں۔“ انہوں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! وہ کیا ہیں؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: «الْأَنَاةُ وَالتُّؤَدَةُ» ”بردباری اور وقار۔“ انہوں نے عرض کیا: ”کیا یہ مجھ میں فطری طور پر ہیں یا میں نے انہیں خود پیدا کیا ہے؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بلکہ یہ پیدائشی طور پر تمہاری جبلت میں شامل ہیں۔“ انہوں نے کہا: «الْحَمْدُ لِلهِ الَّذِي جَبَلَنِي عَلَى مَا يُحِبُّ اللهُ وَرَسُولُهُ» ”شکر ہے اس اللہ کا جس نے مجھے ان فطری اوصاف پر پیدا کیا جنہیں اللہ اور اس کا رسول پسند کرتے ہیں۔“ پھر وہ لوگ کھجوروں کی طرف متوجہ ہوئے اور انہیں کھانے لگے... (راوی نے برنی کھجور کے متعلق بقیہ حدیث ذکر کی ہے)۔
ہود کے دادا کا نام مزیدہ ہے۔ یہ حدیث امام ابو یعلیٰ نے روایت کی ہے۔