المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب المناقب— مناقب و فضائل کا بیان۔
بَابُ أخبار عبد خير باب: عبد خیر کے حالات کا بیان۔
قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ حَمَّادٍ الْكُوفِيُّ ، ثَنَا مُسْهِرُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ سَلْعٍ ، أَخْبَرَنِي أَبِي قَالَ : قُلْتُ لِعَبْدِ خَيْرٍ : كَمْ أَتَى عَلَيْكَ ؟ قَالَ : عِشْرُونَ وَمِائَةُ سَنَةٍ . قُلْتُ : تَذْكُرُ مِنْ أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ شَيْئًا ؟
قَالَ : نَعَمْ ، كُنَّا بِبِلَادِ الْيَمَنِ فَجَاءَنَا كِتَابُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو النَّاسَ إِلَى خَيْرٍ وَاسِعٍ ، وَكَانَ أَبِي مِمَّنْ خَرَجَ وَأَنَا غُلَامٌ ، فَلَمَّا رَجَعَ قَالَ لِأُمِّي : مُرِي بِهَذِي الْقِدْرِ فَلْتُرَقْ لِلْكِلَابِ فَإِنَّا قَدْ أَسْلَمْنَا ، فَأَسْلَمَ .عبدالملک بن سلع کے والد سے مروی ہے کہ میں نے امام عبد خیر رحمہ اللہ سے پوچھا: ”آپ کی عمر کتنی ہو چکی ہے؟“ انہوں نے جواب دیا: ”ایک سو بیس سال۔“ میں نے دریافت کیا: ”کیا آپ کو زمانۂ جاہلیت کی کوئی بات یاد ہے؟“ انہوں نے کہا: ”جی ہاں، ہم سرزمینِ یمن میں مقیم تھے کہ ہمارے پاس رسول اللہ ﷺ کا نامۂ مبارک پہنچا، جس میں آپ ﷺ لوگوں کو وسیع خیر و بھلائی کی طرف بلا رہے تھے۔ میرے والد ان لوگوں میں شامل تھے جو نکلے تھے، جبکہ میں اس وقت ایک چھوٹا بچہ تھا۔ جب وہ واپس آئے تو انہوں نے میری والدہ سے فرمایا: اس ہانڈی کو کتوں کے لیے انڈیل دو، کیونکہ ہم اسلام قبول کر چکے ہیں۔ چنانچہ وہ مسلمان ہو گئے۔“
اس حدیث کی تخریج امام ابو یعلیٰ نے اپنی مسند میں کی ہے۔