المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب المناقب— مناقب و فضائل کا بیان۔
فَضْلِ البراء بن مالك رضي اللَّهُ عَنْهُ باب: سیدنا براء بن مالک رضی اللہ عنہ کی فضیلت کا بیان۔
قَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَنَا هِشَامٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى الْبَرَاءِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَهُوَ مُسْتَلْقٍ عَلَى فِرَاشِهِ ، وَهُوَ يُنْشِدُ أَبْيَاتًا مِنَ الشِّعْرِ ، كَأَنَّهُ يَتَغَنَّى بِهِنَّ ، فَقُلْتُ لَهُ : رَحِمَكَ اللهُ ، قَدْ أَبْدَلَكَ اللهُ بِهِ مَا هُوَ خَيْرٌ مِنْهُ ، الْقُرْآنُ . فَقَالَ : أَتَرْهَبُ أَنْ أَمُوتَ عَلَى فِرَاشِي ! لَا وَاللهِ ، مَا كَانَ اللهُ لِيَحْرِمَنِي ذَلِكَ وَقَدْ قَتَلْتُ مِائَةً مُنْفَرِدًا سِوَى مَنْ شَارَكْتُ فِي ذَلِكَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں سیدنا براء بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر ہوا تو وہ اپنے بستر پر لیٹے ہوئے کچھ اشعار پڑھ رہے تھے، ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے وہ انہیں ترنم کے ساتھ گنگنا رہے ہوں، تو میں نے ان سے کہا: «رَحِمَكَ اللهُ» ”اللہ آپ پر رحم فرمائے“، اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان اشعار کے بدلے اس سے کہیں بہتر چیز یعنی قرآنِ کریم عطا فرما دیا ہے، اس پر انہوں نے جواب دیا: ”کیا تمہیں یہ خوف لاحق ہے کہ میں اپنے بستر پر (طبعی موت) مر جاؤں گا؟ نہیں، اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ مجھے اس (شہادت کی عظیم نعمت) سے ہرگز محروم نہیں کرے گا، حالانکہ میں نے تنِ تنہا سو (100) کافروں کو قتل کیا ہے، ان جنگجوؤں کے علاوہ جن کے قتل میں مَیں رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ (مختلف معرکوں میں) شریک رہا ہوں“۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے، اسے امام احمد بن منیع نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے اور اس کے تمام راوی ثقہ ہیں۔