المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب المناقب— مناقب و فضائل کا بیان۔
فَضْلِ أبي كعب الحارثي رضي اللَّهُ عَنْهُ باب: سیدنا ابو کعب حارثی رضی اللہ عنہ کی فضیلت کا بیان۔
قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، ثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ جَبَلٍ ، عَنْ أَبِي كَعْبٍ الْحَارِثِيِّ ، هُوَ ذُو الْإِدَاوَةِ ، قَالَ : سَمِعْتُهُ يَقُولُ : خَرَجْتُ فِي طَلَبِ إِبِلٍ لِي ضَوَالَّ ، فَتَزَوَّدْتُ لَبَنًا فِي إِدَاوَةٍ ، ثُمَّ قُلْتُ فِي نَفْسِي : مَا أَنْصَفْتُ ، فَأَيْنَ الْوَضُوءُ ؟ فَأَهْرَقْتُ اللَّبَنَ وَمَلَأْتُهَا مَاءً ، وَقُلْتُ : هَذَا وَضُوءٌ ، وَهَذَا شَرَابٌ . فَكُنْتُ أَبْغِي إِبِلِي فَإِذَا أَرَدْتُ أَنْ أَتَوَضَّأَ اصْطَبَبْتُ مِنَ الْإِدَاوَةِ مَاءً فَتَوَضَّأْتُ ، وَإِذَا أَرَدْتُ أَنْ أَشْرَبَ اصْطَبَبْتُ لَبَنًا فَشَرِبْتُهُ ، فَمَكَثْتُ بِذَلِكَ ثَلَاثًا ، فَقَالَتْ لَهُ أَسْمَاءُ الْبَحْرَانِيَّةُ : يَا أَبَا كَعْبٍ ، أَحَقِيبًا كَانَ أَمْ حَلِيبًا ؟ فَقَالَ : إِنَّكِ لَبَطَّالَةٌ ، بَلْ كَانَ يَعْصِمُ مِنَ الْجُوعِ ، وَيَرْوِي مِنَ الظَّمَأِ .
أَمَا إِنِّي حَدَّثْتُ بِهَذَا الْحَدِيثِ نَفَرًا مِنْ قَوْمِي فِيهِمْ عَلِيُّ بْنُ الْحَارِثِ سَيِّدُ بَنِي قِيَانٍ ، قَالَ : مَا أَظُنُّ الَّذِي تَقُولُ كَمَا قُلْتَ .سیدنا ابو کعب حارثی رضی اللہ عنہ، جو کہ ”ذوالاداوہ“ (لوٹے والے) کے لقب سے معروف ہیں، سے روایت ہے کہ انہوں نے بیان کیا: ”میں اپنے گمشدہ اونٹوں کی تلاش میں نکلا تو میں نے چمڑے کے ایک برتن (اداوہ) میں بطور زادِ راہ دودھ لے لیا، پھر میں نے اپنے دل میں سوچا کہ میں نے انصاف سے کام نہیں لیا، (اگر یہ دودھ ہے تو) وضو کے لیے پانی کہاں سے آئے گا؟ چنانچہ میں نے وہ دودھ انڈیل دیا اور اس برتن کو پانی سے بھر لیا اور کہا کہ یہ وضو کے لیے بھی ہے اور پینے کے لیے بھی؛ پھر میں اپنے اونٹوں کو ڈھونڈنے لگا، جب میں وضو کا ارادہ کرتا تو اس برتن سے پانی انڈیلتا اور وضو کر لیتا، اور جب پینے کی خواہش ہوتی تو اسی سے دودھ انڈیلتا اور اسے پی لیتا، میں تین دن تک اسی حال میں رہا۔“ (یہ سن کر) اسماء بحرانیہ نے ان سے پوچھا: اے ابو کعب! کیا وہ زین کے پیچھے لٹکا ہوا باسی دودھ تھا یا تازہ دوہا ہوا دودھ؟ تو انہوں نے جواب دیا: ”تم تو بالکل لغو بات کر رہی ہو، بلکہ وہ تو ایسا (مبارک) دودھ تھا جو بھوک سے بچاتا اور پیاس سے سیراب کر دیتا تھا۔“
میں نے اپنی قوم کے چند لوگوں کو یہ حدیث سنائی جن میں بنو قیان کے سردار علی بن حارث بھی موجود تھے، تو انہوں نے کہا: میرا نہیں خیال کہ جو بات آپ کہہ رہے ہیں وہ حقیقت میں ویسی ہی ہو جیسے آپ نے بیان کی ہے۔