المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب المناقب— مناقب و فضائل کا بیان۔
مناقب حنظلة بن حذيم رضي اللَّهُ عَنْهُ باب: سیدنا حنظلہ بن حذیم رضی اللہ عنہ کے مناقب کا بیان۔
قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ ، ثَنَا ابْنُ حَنْظَلَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ جَدِّي حَنْظَلَةَ ، يَقُولُ : قَالَ أَبِي حَنِيفَةُ بْنُ حِذْيَمٍ : يَا رَسُولَ اللهِ ، إِنِّي رَجُلٌ ذُو بَنِينَ ، وَهَذَا أَخَصُّ بَنِيَّ فَسَمِّتْ عَلَيْهِ ، فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا غُلَامُ - وَأَخَذَ بِيَدِي وَمَسَحَ رَأْسِي - بَارَكَ اللهُ فِيكَ .
قَالَ : فَلَقَدْ رَأَيْتُ حَنْظَلَةَ بْنَ حِذْيَمٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يُؤْتَى بِالْإِنْسَانِ الْوَارِمِ ، فَيَضَعُ يَدَهُ عَلَيْهِ ، فَيَقُولُ : بِاسْمِ اللهِ ، فَيَذْهَبُ الْوَرَمُ .سیدنا حنظلہ بن حذیم رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے بارگاہِ رسالت میں عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! میں صاحبِ اولاد (کئی بیٹوں والا) شخص ہوں، اور یہ میرا سب سے چہیتا اور خاص بیٹا ہے، لہٰذا آپ اس کے حق میں برکت کی دعا فرما دیں“، تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اے لڑکے!“ اور آپ ﷺ نے میرا ہاتھ پکڑا، میرے سر پر دستِ مبارک پھیرا اور دعا دی: «بَارَكَ اللهُ فِيكَ» ”اللہ تعالیٰ تجھ میں برکت عطا فرمائے“۔
راوی بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا حنظلہ بن حذیم رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ ان کے پاس ایسا شخص لایا جاتا جس کے جسم پر کوئی ورم (سوجن) ہوتی، تو وہ اس متاثرہ مقام پر اپنا ہاتھ رکھتے اور فرماتے: «بِاسْمِ اللهِ» ”اللہ کے نام کے ساتھ“، تو وہ ورم اسی وقت ختم ہو جاتا۔