المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب المناقب— مناقب و فضائل کا بیان۔
مناقب عبد اللَّهُ بن سلام رضي اللَّهُ عَنْهُ باب: سیدنا عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کے مناقب کا بیان۔
قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ ، ثَنَا أَبُو مَعْشَرٍ الْمَدَنِيُّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَوَّلُ مَنْ يَدْخُلُ مِنْ بَابِ الْمَسْجِدِ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ . فَدَخَلَ عَبْدُ اللهِ بْنُ سَلَامٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ : إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ كَذَا وَكَذَا ، فَأَيُّ عَمَلٍ لَكَ أَوْثَقُ تَرْجُو بِهِ ؟ قَالَ : إِنَّ عَمَلِي لَضَعِيفٌ ، وَإِنَّ أَوْثَقَ عَمَلِي أَرْجُو بِهِ - سَلَامَةُ صَدْرِي وَتَرْكِي مَا لَا يَعْنِينِي .
هَذَا حَدِيثٌ ضَعِيفٌ ، وَمُنْقَطِعٌ أَيْضًا .
وَأَصْلُهُ فِي الصَّحِيحِ مِنْ رِوَايَةِ قَيْسِ بْنِ عُبَادٍ وَخَرَشَةَ بْنِ الْحُرِّ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَلَامٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مُتَّصِلَا دُونَ مَا فِي آخِرِهِ مِنَ السُّؤَالِ .
( 189 ) وَحَدِيثُ جُنْدُبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - مَوْقُوفٌ ، مَضَى فِي الْعِلْمِ .
( 190 ) وَحَدِيثُ الْحَسَنِ الْمُرْسَلُ فِي تَفْسِيرِ الْأَحْقَافِ .امام محمد بن کعب قرظی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اس مسجد کے دروازے سے ابھی جو پہلا شخص داخل ہوگا وہ اہل جنت میں سے ہے۔“ چنانچہ سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ داخل ہوئے تو ایک شخص نے ان سے عرض کیا کہ نبی کریم ﷺ نے آپ کے متعلق یوں ارشاد فرمایا ہے، تو آپ کا ایسا کون سا سب سے زیادہ مضبوط عمل ہے جس پر آپ کو (قبولیت اور نجات کا) بھروسہ ہے؟ انہوں نے جواب دیا: ”بلاشبہ میرا عمل تو نہایت کمزور ہے، البتہ میرا وہ سب سے زیادہ پختہ اور قابلِ اعتماد عمل جس سے میں (اللہ کی رحمت کی) امید رکھتا ہوں، وہ میرے سینے کا ہر قسم کے کینے سے پاک ہونا اور میرا فضول و لایعنی باتوں کو ترک کر دینا ہے۔“
یہ حدیث ضعیف ہے اور سند کے اعتبار سے منقطع بھی ہے۔
اس حدیث کی اصل ’صحیح‘ میں قیس بن عباد اور خرشہ بن حر کی سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے مروی متصل روایت میں موجود ہے، تاہم اس کے آخر میں موجود سوال و جواب کا تذکرہ وہاں نہیں ہے۔
سیدنا جندب رضی اللہ عنہ کی سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی روایت موقوف ہے جو کتاب العلم میں گزر چکی ہے۔
اور امام حسن بصری رحمہ اللہ کی مرسل روایت سورہ احقاف کی تفسیر میں مذکور ہے۔